طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 150
ڈاکٹروں , انجینیئروں , فوجیوں سے دین لینے سے بچیں
آپ دیکھ لیں فتنہ انہی کے بیانات و کتابوں سے پھیلتا ہے
قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا
لوگ جاہلوں کو امام بنا لیں گے
جن کے امام جاہل ہیں وہ عوام کو گمراہ ضرور کریں گے
آج کل عوام کو ان جہلاء نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور وہ ہے سند کہ جس حدیثِ مبارکہ کی سند صحیح ہے تو اس کا ظاہری معنی دیکھ کر فتنے پھیلاتے ہیں
یہ تفقہ سے دوری ہے
حدیثِ مبارکہ صحیح سند سے ثابت ہونے کے بعد بیسیوں مراحل سے گزر کر کوئی مسئلہ ظاہر کرتی ہے
اور اسی طرح مسئلہ اخذ کرنے کو فقہ و تفقہ کہتے ہیں
یہ تفقہ ناپید ہے
حدیثِ مبارکہ صحیح سند سے ثابت ہونے کے بعد
• اس کے منسوخ ہونے کا لحاظ
• فقہاءِ کرام کے اس کے معانی و تشریح میں اقوال کا احاطہ
{ کیونکہ مجتہدین کے زمانے میں سب سے بڑا عالم وہ ہوتا تھا جو اختلافِ اقوال زیادہ جانتا تھا }
• مزاجِ اسلام کے مطابق اس سے معانی کا استخراج
• خود سے کوئی معنی و مفہوم اخذ کرنے کے بعد قرآن و حدیث اور فقہاءِ کرام کے مزاج پر پرکھنا کہ کسی کا رد تو نہیں ہو رہا
• کوئی معنیٰ اخذ کیا تو اس کے مآل و انجام پہ نظر کہ اس کی وجہ سے کس عقیدے پر ضرب پڑے گی یا کس ہستی کا قول رد ہوگا
اور بہت سی وجوہات ہیں کہ حدیثِ مبارکہ صحیح ہونے کے بعد صرف ظاہری معنی پر پکے ہونا اھلِ ظواہر کی عادت ہے فقہاء کی نہیں
اب سوال ہے کہ ان وجوہات کا پاس کون رکھتا ہے کیسے سمجھ آئیں گی
تو جواباً عرض ہے
فقہی کتب پڑھنے , اصولی کتب پڑھنے اور فتاویٰ جات کا عمیق مطالعہ کرنے سے یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے
آج کل کے کاپی پیسٹ محققین کو اس کی ہوا بھی نہیں لگتی کیونکہ اس کام کے لیے سرچ سسٹم کام نہیں کرتا بلکہ راتیں جاگنا پڑتی ہیں کتب کے حواشی پڑھنے پڑتے ہیں عربی کتب سے واسطہ رکھنا پڑتا ہے
یہ لوگ شاملہ و گوگل سے سند کے ایک ایک راوی کو سرچ کرتے کرتے صحیح ضعیف کا حکم ایسے لگاتے ہیں گویا بخاری و ابن معین ہیں
اور پھر حدیث پاک کا من چاہا معنیٰ یا اسلاف کے خلاف تشریح اور مزاجِ اسلام و سنیت کے خلاف مطلب نکال کے ایسے پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں کہ سنیت کے پرسکون چمن کو آگ لگا کے بے سکونی پیدا کر دیتے ہیں
لہذا فی زمانہ کو صرف حدیث کی سند پر کام کر کے تشریح کرے اور فقیہ نہ ہو تو اس سے دور رہیں
جو مفتی نہ ہو اس سے دور رہیں
آج کل تو لوگوں نے اپنے مدارس میں بخاری و مسلم از پڑھانے کا انتظام کر کے خود کو شیخ الحدیث مشہور کر رکھا ہے اس کا بالکل اعتبار نہ کریں
ہر مدرس مفتی نہیں ہوتا بلکہ ہر مدرس عالم بھی نہیں ہوتا
آج کل تو فتنوں کی بھرمار ہے شیوخ الحدیث بھی جعلی دستیاب ہو رہے ہیں شیخ الاسلام بھی خود ساختہ ہیں بلکہ یہاں تو مجدد بھی خود ساختہ ہیں تو اعتبار کس پر کریں ؟
اس پر کریں جس کے پاس دار الافتاء کا قلمدان ہے
جو دار الافتاء میں بیٹھا فتوی نویسی کرتا ہے جو فتوے باقاعدہ جاری کرتا ہے
وہی معتبر ہے وہی آپ کے عقیدے کا ضامن ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
