طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 151
حسن التنبه لما ورد في التشبه میں امام نجم الدین الغزی نے ایک بات باندھا ہے
بَابُ النَّهي عَنْ تَشَّبُّهِ العَاقِلِ بِالمَجَانينِ وَالحَمْقَى
احمق و مجنون سے عقلمند کے مشابہت کی نہی کا بیان
اس کے تحت ایک فصل قائم کی
أن الأحمق متى سمع حديثًا صدقه وإن لم يتبين حقيقته ولم يتصور إمكانه
احمق وہ ہے جب کوئی بات سنے اس کی تصدیق کرتا ہے اگرچہ اس کی حقیقت اس پر واضح نہ ہو اور نہ اس کا امکان ہو
حدیثِ مبارکہ میں ہے
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کر دے
امام الغزی فرماتے ہیں
کبھی آدمی کسی سے جھگڑا کرتا ہے تو اس کی مذمت بیان کر دیتا ہے جس کا نہ شر ہو نہ جہل ہو اور اس کی مدح کر دیتا ہے جس میں نہ خیر ہو نہ فضل ہو
امام اصمعی کا قول ہے
إذا أردت أن تعرف عقل الرجل في مجلس واحد فحدثه بما لا يكون فإن رأيته قد أصغى إليه وقبله فاعلم أنه أحمق وإن أنكره فهو عاقل
جب تم چاہو کہ ایک ہی محفل میں کسی کی عقل پہچان لو تو اس کے سامنے بے اصل روایت بیان کرو اگر تم دیکھو کہ وہ کان لگا کے سن رہا ہے اور دل میں اسے جگہ دے رہا ہے تو جان لو وہ احمق ہے
اور اگر وہ انکار کرے تو جان لو وہ عقلمند ہے
اس لحاظ سے روافض سب سے بد عقل و احمق ہیں
کیونکہ یہ جھوٹ گھڑ گھڑ کے مارتے ہیں
بلکہ ان کا مذہب ہی جھوٹ و مکر پر بنا ہے
ائمہ اطھار کی طرف جھوٹ گھڑ کے بکثرت منسوب کرتے ہیں
اسی وجہ سے امام جعفر صادق نے فرمایا
ان روافض کی ہم سے محبت ہمارے لیئے شرمندگی بن گئی ہے
کیونکہ یہ بے تحاشا جھوٹ گھڑتے ہیں اور اھلِ بیت طرف منسوب کر دیتے ہیں
اس کے بعد امام الغزی فرماتے ہیں
ومن أقبح أحوال الحمقى في هذا الباب أن يحدث أحد صاحبه في المجلس بخبر أو مدح رجل أو ذمه أو نحو ذلك فيعارضه صاحبه فيه ويأتي بضده
اس باب میں احمقوں کا سب سے بدترین حال یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے ساتھی کو ایک خبر بیان کرے یا کسی کی مدح کرے یا کسی کی مذمت کرے تو اس کا ساتھی اس سے جھگڑا کرے اور اس کی مخالف شے لے آئے
❗ حسن التنبه لما ورد في التشبه ج ١٠ ص ٦٢ ❗
احمقوں کی اس سب سے بدترین صورتِ حال میں دو طرح کے لوگ پیش پیش ہیں
ناصبی
سیاسی
اول ناصبی یوں کہ کوئی اھلِ بیت کے فضائل بیان کرے تو تتے توے پر بیٹھ جائے گا اس کے معارض و مقابل کوئی روایت لے آئے گا کہ فلاں صاحب کو بھی یہ نصیب ہے
امام الغزی کو قول دوبارہ پڑھیں اور ناصبیوں کی عادت سمجھیں
کوئی سنی بیان کرے
مولا علی کو دیکھنا عبادت ہے
مولا علی کا ذکر عبادت ہے
ناصبی جل بھن جائے گا اور کہے گا یہ خاص فضیلت نہیں ہے
ماں باپ کو دیکھنا بھی عبادت ہے مگر کمبخت یہ بھول جاتا ہے کہ تیرے ماں باپ کو دیکھنا عبادت تیرے لیئے ہے ہر ایک کے لیئے نہیں جبکہ مولا علی کو دیکھنا عبادت ہر ایک کے لیئے ہے
وہ عظیم الشان صدیق اکبر اپنے باپ کے ہوتے ہوئے مولا علی کو دیکھتے تھے
ناصبی ایسی ڈنڈیاں مارتے ہیں
تو کوئی بھی سفید بال سیاہ دل ایسا تقابل کرتا نظر آئے تو سمجھ لیں امام الغزی و امام اصمعی کے مطابق وہ سب سے بڑا احمق ہے
دوم سیاسی
دنیا دار سیاست میں حصہ لینے والا بھی بڑا احمق ہے
آپ کسی کی تعریف کریں یہ کمبخت اس کی برائی شروع کر دے گا اور اپنے قائد و رہنماء کی تعریفیں شروع کر دے گا
ان احمقوں سے بچیں تاکہ آپ میں حماقت سرایت نہ کر جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
