اسلامی_طرزِتربیت 73
امام ابن ابی الدنیا نے کتاب العقل میں لکھا
جب اللہ ربّ العزت نے آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو زمین پر اتارا تو جبریل انکے پاس تین اشیاء لیکر آئے اور کہا کہ ان میں سے کوئی ایک اختیار کر لیں
دین
خلق
عقل
جبرئیل نے کہا میں نے ان تین چیزوں سے زیادہ حسین کہیں کوئی شے نہیں دیکھی سوائے جنت کے تو آدم علیہ السلام نے عقل کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور باقی دونوں یعنی دین و اخلاق کو کہا تم واپس آسمان پر چڑھ جاؤ وہ دنوں کہنے لگے کہ ہمیں حکم ہے کہ جہاں عقل ہوگی ھم اس کے ساتھ رہیں گے
تو وہ تینوں آدم علیہ السلام کے ساتھ ہو گئے
یہ تینوں بندے پر اللہ کی سب سے بڑی عطاء و کرم نوازی ہے
پھر اللہ تعالیٰ نے ان تین کے تین دشمن پیدا فرمائے
ھوائے نفس
شیطان
نفس امارہ
وھب بن منبہ فرماتے ہیں
دو آدمی نیکیوں میں برابر ہوتے ہیں مگر ان کے مقام و مرتبہ میں زمین و آسمان سے زیادہ فرق ہوتا ھے صرف عقل کی بناء پر کیونکہ عقل والے کا رتبہ بلند ہوتا ھے
حدیث پاک میں ہے
ما عبد اللہُ بشی افضل من العقل
عقل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے زیادہ کسی بھی طرح بہتر عبادت نہیں کی گئی ہے
سیدی معاذ بن جبل فرماتے ہیں
عقلمند صبح و شام اتنے گناہ کرے جتنے ریت کے ذرات ہوتے ہیں تب بھی اس کی نجات کے قوی امکان ہوتے ہیں اور بے عقل اگر صبح و شام اتنی نیکیاں کرے جتنے ریت کے ذرات ہوتے ہیں تب بھی ممکن ہے کہ وہ نجات نہ پا سکے
کیونکہ عاقل توبہ و استغفار اور عقل کے ذریعہ گناہوں سے نجات پا لے گا جبکہ بے عقل کم عقلی سے اعمال برباد کر سکتا ہے
عقل مند کبھی نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر گناہ کر بھی لے تو اس پر جری و بیباک نہیں ہوتا ہٹ دھرم و باغی نہیں بنتا بلکہ پھر جھک کر گناہ کا اقرار کرتا ہے گناہ کرنے میں تاویلات نہیں کرتا جبکہ بے عقل تاویلات کرتے ہوئے خود پر رحم و رعایت کے دروازے بند کر دیتا ہے
عقل اللہ رب العزت کی طرف سے عظیم و جلیل تحفہ ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں بے عقلی کم عقلی سے محفوظ رکھے
کوشش کریں کتاب العقل کا مطالعہ کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
