عجمی ولی کون ہوتا ہے

تصوف_وصوفیاء 1

اس شدت کا اختلاف بھی رحمت ہے

امام اجل عارف باللہ عبد الوھاب شعرانی
مشہور زمانہ کتاب میزان الکبری میں فرماتے ہیں
کہ
علماء کا شراب کے ناپاک ہونے پر اجماع ہے
مگر امام داؤد ظاہری کے نذدیک شراب پاک ہے
مگر اس کا پینا حرام ہے
آگے فرمایا کہ کتے کی ناپاک ہونے پر امت کا اجماع ہے
مگر امام مالک کے نذدیک کتا پاک ہے
پھر آگے ایسی تحقیق فرمائی کہ بس کمال ہوگیا

میزان الکبری ایسی کتاب ہے جس میں امام شعرانی نے امت کے علماء کے اختلافی مسائل کو
*مختلف ہونے کی عقلی و روحانی وجوہات سے بیان کیا *اور سب کو بر حق ثابت کیا*
اور سب سے تعجب کی بات ہے جو آپ کا ذہن کھول دے گی

وہ یہ کہ آپ نے جگہ جگہ مجتہدین کے مسائل کے اختلاف میں ایک عجمی ولی
( عجمی ولی وہ ہوتا ہے جو بظاہر کسی بھی استاد سے نہیں پڑھا ہوتا نہ قرآن نہ حدیث نہ فقہ کسی مدرسے میں نہیں گیا ہوتا کسی مدرس سے نہیں پڑھا ہوتا)

سیدنا علی الخواص (جو کہ امام شعرانی کے مرشد ہیں) ان کے اقوال بطور حجت و دلیل پیش کرتے ہیں
جی ہاں دنیا کی نگاہ میں ان پڑھ درویش مجتہدین کے فقہی مسائل حل کرتے نظر آتے ہیں
آپ سیدنا علی الخواص کی دقیق ابحاث پڑھیں تو عقل دنگ رہ جائے گی اور ماننے سے انکار کر دے گی کہ یہ عجمی و ان پڑھ ہیں
مگر حقیقت یہی ہے کہ ولی کامل کا علم ایسا ہوتا ہے جو ظاہری علوم پر حاوی ہوتا ہے
اس ساری بحث سے دو باتیں بتانا مقصود ہیں
اول کہ علماء کا فقہی اختلاف حتی کہ شراب و کتے کے پاک ہونے میں بھی ہو شراب جو کہ نجس العین ہے پھر بھی سامنے والے کی بوجہَ علم عزت لازم و فرض ہے
دوم کہ کسی ولی کا اپنے وقت میں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا لازم نہیں اور نہ باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا ولایت کہ شرط ہے
لہذا امیر اھل سنت مولانا الیاس عطار قادری کی جانب اٹھتے جاہلانہ اعترضات سے پہلے اس پاک امت کے عجمی اولیاء کی ایک طویل فہرست ملاحظہ کر لی جائے امید ہے تسلی و تشفی ہوجائے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top