تاریخِ_اسلامی 91
امام ابن الاثیر الکامل فی التاریخ میں فرماتے ہیں
نَصَبَ مَنْجَنِيقًا يُقَالُ لَهُ الْعَرُوسُ كَانَ يَمُدُّ بِهِ خَمْسُمِائَةِ رَجُلٍ
محمد بن قاسم نے ایک منجنیق { ایک قسم کا ٹینک }نصب کی جسے عروس کہا جاتا تھا اُسے پانچ سو آدمی کھینچتے تھے
دیبل یعنی کراچی میں بہت بڑا بے بت تھا اُس پر ایک لکڑی نصب تھی جس میں سرچ جھنڈا لہراتا ہے وہ اتنا بڑا تھا کہ شہر بھر میں ہوا کے چلنے سے گھومتا تھا
محمد بن قاسم نے عروس سے اس جھنڈے کو نشانہ بنایا وہ جھنڈا گرا تو شہر والوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا کیونکہ ان کے نذدیک یہ شکست کی نشانی تھی
❗ الکامل فی التاریخ ❗
ایمانی قوت تھی تو سمندر پار کر بہن سے نکاح کرنے والے راجہ ڈہر کو بری طرح شکست دی اور اسلام کا پرچم لہرایا
محمد بن قاسم تاریخِ اسلام کا عظیم قائد تھا
راجہ ڈہر کی نقالی میں اپنی بہنوں پر گندی نظر رکھنے والے راجہ کو مظلوم اور محمد بن قاسم کو ظالم کہتے ہیں
ان کے فریب میں عام مسلمان نہ آئیں تو عقیدتاً دھوکہ دیتے ہیں کہ محمد بن قاسم آل رسول کے پیچھے پیچھے آیا تھا
جبکہ شجرہَ سادات میں کوئی ایسا نام نہیں ہے جو یوں کراچی آیا ہو
یہ اسلام کا بغض ہے کہ اسلامی قائد کو برا کہنے کے چکر میں بہن سے نکاح کرنے والے ہندو بلکہ ملحد کو مظلوم بناتے ہیں
آلِ رسول توکل و رضاء و ایمان پسِ پشت ڈال کر ایک ہندو سے پناہ مانگیں گے ؟
تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا کہ اسلام کی بقاء اور مسلمانوں کی عزت آگے بڑھ کر حملہ کرنے میں ہے نہ کہ ہمشیہ دفاع کرنے میں ہے
مسلمانوں کو چاہے کہ موجودہ عروس سے موجودہ منحوس پر حملہ کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
