طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 29
روض الریاحین میں امام یافعی نے بیان فرمایا
جب شیخ ابو عبد اللہ القرشی بیت المقدس تشریف لائے تو آپ کے ساتھ ابو الطاہر محلی جو کہ فقیہ تھے وہ بھی ساتھ تھے
فقیہ ابو طاہر کہتے ہیں کہ
ایک بار میں مسجد اقصی میں فقہاء و علماء کے مدرسے کے پاس سے گزرا
{ اس وقت تک وہ فقیہ نہیں بنے تھے بس ایک صوفی درویش تھے } تو میں نے علماء و طلباء کو دیکھا وہ بڑے بڑے جبہ و دستار اور شان و شوکت والے لباس پہن کر تعلیم میں مشغول تھے
° میں صوفی بندہ تھا اپنے پھٹے پرانے کپڑے دیکھ کر شرم آنے لگی °
میں واپس اپنے شیخ ابو عبد اللہ القرشی کے پاس آگیا اور رات گزاری تو صبح میرے شیخ کہنے لگے
جاؤ پھر اسی مدرسے میں جہاں کل گزرے تھے اور آج اندر گھس جانا
میں بہت حیران ہوا کہ ان کو کیسے پتا چلا مگر حکم ماننا بھی ضروری تھا تو میں چل پڑا
مجھے خیال ہوا کہ باہر موجود محافظ مجھ فقیر و مسکین کو اندر داخل نہیں ہونے دیں گے
مگر جب میں وہاں گیا تو کسی نے مجھے نہیں روکا حتی کہ میں اس علمی حلقے کے پاس جاکر بیٹھ گیا
اسی وقت ایک شان و شوکت والا آدمی داخل ہوا جس کے آنے پر وہاں کے استاذ و تمام طلباء کھڑے ہوگئے
میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟
اس نے کہا کہ یہ علم مناظرہ و علم الاختلاف کے ماہر ہیں جب یہ آتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ ان کی بات کا جواب دے سکے حتی کہ ہمارے استاذ بھی ان کی بس سنتے ہیں
اتنے میں آنے والے شیخ نے ایک سوال کیا بس پھر کیا تھا میرے دل و دماغ پر اس کے جوابات آنا شروع ہوگئے اور میں دو بندوں کے بیچ گھس گیا اور میری زبان فرافر چلنے لگی اور میں مناظرین و اصولیین کے انداز میں نے ترتیب سے جواب دینا شروع کیا
وہاں موجود سب اور مدرس و شیخ حیران رہ گئے
شیخ نے مدرس کو کہا یہ فقیہ کون ہے؟
مدرس نے کہا میں نے بھی ابھی دیکھا , اس کو میں نہیں جانتا یہ کون ہیں
شیخ نے کہا اس جیسے کے لیئے ہی مدارس ہونے چاہیئں
مدرس بہت خوش ہوگیا کہ میری وجہ سے انکے مدرسے کی تعریف ہوگئی ہے
پھر شیخ نے کہا کہ ہم آپ کو آپکے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے کیونکہ ہماری یہاں رسم ہے بطور عزت فقیہ کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں
میں نے عرض کیا حضور آپ تکلف نہ فرمائیں میں خود چلا جاؤں گا
° اس باکرامت واقعے میں سب سے اہم بات جو معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ اللہ والوں سے قربت رکھنا علوم و فنون کے دروازے کھول دیتی ہے °
نگاہِ ولی جامی و شرح تہذیب اور بخاری و قرآن کریم کے وہ مشکل مقامات حل کر دیتی ہے جس پر بڑے بڑے ماہر مدرس سر کھپا رہے ہوتے ہیں
لہذا ظاہری علوم کی تکمیل باطنی مرشد کی رہنمائی کے بغیر محض خشک علوم کا مجموعہ بن جاتی ہے
اس خشکی کو مرشد کامل کی صحبت دور کر دیتی ہے
••• علومِ ظاہری خاص طور پر منطق و فلسفہ و بلاغت و کلام و صرف و نحو کے ماہر اکثر بہت خشک حتی کہ تکبر و غرور کی حد تک پہنچ جاتے ہیں •••
پھر یہ تین غلطیاں اکثر کرتے ہیں
اولاً
تصوف کو پسند نہیں کرتے اگر کریں بھی تو تصوف میں بھی عقلی استدلال اور شدت و بے مروتی برتتے ہیں کہ تصوف میں بھی من مانیوں سے باز نہیں آتے
ثانیاً
خود پسندی کی وجہ سے نوافل و اذکار سے محروم رہتے ہیں
یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا علم نوافل سے افضل ہے جبکہ سراسر غرور میں پڑے ہوتے ہیں
ثالثاً
بے جا متشدد ہوتے ہیں ان کی نوکِ زبان تفسیق تضلیل اور تکفیر ہوتے ہیں
اگر مفتی ہیں تو بطورِ مفتی حکمِ شرع بیان کرنا فرض ہے مگر یہ اس سے ہٹ کر نجی محافل و عوامی گفتگو میں حکم لگاتے نظر آتے ہیں
اگر آپ خود کو مضبوط عالم جانتے ہیں تو امام شعرانی کی کتب پڑھیں ان شاءاللہ تزکیہ نفس ہوگا اور مذکورہ تینوں غلطیوں سے باز رہنے کا ذہن بنے گا اور آپ کے علم کی خشکی ضرور دور ہوگی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
