المزاح_و_الظرافت 11
ان کو حال ذوالحال بے حال کر دیتا ہے
ممیز تمییز سے کچھ تمییز نہیں آتی
افعالِ ناقصہ کو ناقص العقل نہیں سمجھ پاتے
حروفِ مشبہ ان پر شبہ ڈالتے ہیں
جار مجرور سے یہ مسرور نہیں
مضاف سے ان کی عقل کا گراف بلند نہیں ہو پاتا
مبتداء کی ابتداء بھی نہیں سمجھ پاتے جبکہ خبر کی خبر نہیں ہوتی
فعل کے فاعل و نائب فاعل کی پہچان نہیں گویا ان کی عقل میں جان نہیں
اسمِ ظرف سمجھنے کو ان کی عقل کا ظرف قابل نہیں
اسمِ آلہ گویا عقل سے اعلی شے ہے
صرفی گردان سے یوں بھاگتے ہیں جیسے تعویذ سے شیطان بھاگتا ہے
حتی کہ سہ اقسام کی پہچان نہیں
شش اقسام سے اکثر انجان ہیں
ہفت اقسام تو ان کے وھم و گمان میں بھی نہیں
تعلیل سے خود علیل ہو جاتے ہیں
اجوف کی طرح خالی الدماغ ہیں معتل کی طرح ہر وقت بیمار ناقص کی طرح نقص زدہ رہنا پسند کرتے ہیں
مجرد کی طرح کنوارے ہو کر بھی دماغ مزید فیہ جیسی سوچ رکھتا ہے کہ مجھ میں اضافہ کیا جائے
° چاہتے تو ترکیب کرنا ہیں مگر ترکیب تنہاء کلمہ سے نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصہ مبنی بر سکون رہتے ہیں °
اور کمائی و پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے آخر کار کسی کی زندگی میں حرف زائدہ کی طرح ہمیشہ فالتو ہی رہتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
