عشقِ_سیدِ_عالَم 51
امام اجل شارح بخاری امام احمد بن محمد قسطلانی المواھب اللدنیہ میں فرماتے ہیں
کہ
الله رب العزت اس آدمی پر رحم کرے جس نے شبِ ولادتِ نبی کو عید کے طور پر منانا شروع کیا تاکہ جن کے دِلوں میں مرض ہے ان کی بیماری مزید بڑھے اور وہ اس مرض کی دوا سے عاجز آجائیں
یعنی جو ہم جو شعر پڑھتے ہیں
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
ایسے ابلیس صدیوں پہلے بھی موجود تھے
اور ان ابلیسوں کا علاج علماءِ متقدمین نے بڑھ چڑھ میلاد منانے میں ڈھونڈھ رکھا تھا
جس بندے کو جنابِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی تھوڑی سی بھی خوشی نہیں ہوتی یقین کریں وہ منافقِ اصلی ہے
مسلمانوں کے بھیس میں منافقینِ مدینہ کی نسل سے ہے
کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اِس دن اِس ماہ وہ ہستی دنیا میں تشریف لائی جو رحمة للعالمین ہے
اور ان کی رحمت سے ہم موجود ہیں
ان کی رحمت سے ہم مسلمان ہیں
ان کی رحمت سے ہم عذاب سے محفوظ ہیں
ان کی رحمت سے ہماری شریعت میں نرمی و آسانی ہے
ان کی رحمت سے ہماری شکلیں مسخ نہیں ہوتیں
ان کی رحمت سے ہم زمین میں نہیں دھنسائے جاتے
ان کی رحمت سے ہم پر آگ و پتھر کا عذاب نہیں اترتا
ان کی رحمت سے ہم افضل امت ہیں
پھر بھی وہ انسان خوش نہ ہو تو کاہے کا مومن ؟ کہاں کا مسلمان؟
یقیناً جو اتنے انعام و اکرام دیکھ کر بھی دل میلا کرے , شکل بگاڑے واللہ اس کا دل پہلے سے سیاہ اور روح پہلے سے ہی بدبودار ہے بس وہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہے نام مسلمانوں والا ہے حلیہ مسلمانوں والا ہے
مگر واللہ وہ مسلمان نہیں ہے
کیونکہ
لا ورب العرش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
سیدمہتاب_عالم# ✍️
