طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 118
کونسے دودھ میں ہر قسم کی شفاء ھے ؟
متاخرین علماء میں سے بے شمار ایسے ہیں جنہوں نے بے شمار متقدمین علماء سے زیادہ کتب پڑھی ہیں
جن کا ظاہری مطالعہ متقدمین کی کتب بینی سے بہت زیادہ ہے
بہت سے غیر مجتہدین علماء کا مطالعہ مجتہدین سے بظاہر زیادہ ہے مگر بعد والے پہلوں کے علم کا ذرہ بھی نہ پا سکے
مجتہد و غیر مجتہد میں زمیں آسمان کا فرق پھر کیوں ہے؟
مجتہدِ مطلق امام مالک کا فرمان ہے
ليس العلم بكثرة الرواية وإنما العلم بنور يقذفه الله في قلب العبد
علم زیادہ روایات بیان کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ علم تو ایک نور ہے جو اللہ رب العزت بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے
اور جب یہ نور قلبِ مومن میں پہنچتا ہے تو بندے کو شرحِ صدر حاصل ہوجاتا ہے
(یعنی سینہ کھل جاتا ہے)
الم نشرح لک صدرک
اے پیارے کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہ دیا
بندہ اس شانِ مصطفوی کا مظہر بن جاتا ہے
تو کم کتب بینی کے باوجود آیات و احادیث کے وہ وہ معانی کُھلتے ہیں کہ عام بندہ حیران رہ جاتا ہے
امام اعمش نے جو احادیث امام اعظم کو سکھائیں امام اعظم نے ان میں سے ہی مسائل کا حل بتا دیا جبکہ امام اعمش پر وہ آشکار نہ ہو سکے
اس کی وجہ یہی تھی کہ امام اعظم کو شرحِ صدر بنسبت امام اعمش کے زیادہ حاصل تھا
فقہاء کو محدثین سے زیادہ اور صوفیاء کو فقہاء سے زیادہ شرح صدر حاصل ہوتا ھے
اب اھم سوال یہ ہے کہ شرحِ صدر کیسے ہو
اصل تو عطاء الہٰی ہے
اس کے بعد ظاہری اسباب میں سے علوم و فنون میں تنوع سے اور شیوخ و مربیین کی کثرت سے حاصل ہوتا ھے
یعنی مخلتف علوم و فنون کا پڑھنا اور کثرت سے استاذ بنانا سینہ کھول دیتا ہے
ایک یا چند علوم کو لیکر طویل عرصہ لگا دینا یا چند اساتذہ کو لیکر کوشش کرنا سینے پر قفل کا سبب ھے
شہد کی مکھیوں کی مثال لیجئے
مختلف پھولوں کا رس چوستی ہیں تو خالص شہد بنتا ہے
اور فارمی بازاری شہد بنانے کے لیئے وہ مکھیوں کے چھتے کے پاس چینی یا گڑ ڈال دیتے ہیں بس اسی کو چوس کر شہد بنا لیا جاتا ہے جو کہ فارمی و بازاری ہوتا ہے
اسی طرح حدیث پاک میں گائے کے دودھ کے بارے فرمایا شفاء ہے
طبرانی و حاکم کی حدیث پاک میں ہے
علیکم بالبان البقر فانھا ترم من کل شجر و ھو شفاء من کل داء
تم پر گائے کا دودھ لازم ہے کیونکہ یہ ہر درخت سے چرتی ھے اور وہ دودھ ہر بیماری کی شفاء ھے
یہاں پر حدیث پاک میں ہر بیماری سے شفاء ہونے کی علت ہر درخت سے چرنا بیان کی گئی ہے
معلوم ہوا مختلف اشیاء کا مجموعہ شفاء و دعاء بنتا ہے
جیسا کہ شہد اور گائے کے دودھ میں ہے
امام اعظم کے تقریبا تیرہ سو استاذ تھے
یہ ایک ظاہری سبب ہے ان کے شرح صدر کا کہ امام اعمش سے احادیث سن کر مسائل اخذ کر لیا کرتے
شرح صدر یعنی قلب و ذہن کا کھل جانا
اس کے ظاہری اسباب میں سے چند لکھنے کی کوشش کرتا ہوں
{1} کثیر اساتذہ
یہ مختلف پھول ہیں جن کا رس شہد بناتا ہے
{2} مختلف علوم و فنون پڑھنا
یہ مختلف درخت ہیں جن کا دودھ شفاء بخشتا ھے
{3} کثیر سفر کرنا
کہ سفروں سے عقل کھولتی ہے
سیدی عبد اللہ بن مسعود کا فرمان ہے
العلم بالسفر
علم سفر سے اتا ہے
{4} غیر حاسد علماء کی صحبت میں بیٹھنا
کیونکہ حاسد کی صحبت تنگ ذہنی پیدا کرتی ہے
{6} ہر وقت با وضوء رہنا
کہ خود اعتمادی برقرار رہتی ہے تجربہ کر کے دیکھ لیں
{6} قلیل الطعام,قلیل الکلام,قلیل المنام ہونا
کیونکہ کم کھانا کم سونا کم بولنا اولیاء کا طریقہ ہے
وقت کی بچت رہتی ہے اور غفلت سے حفاظت ہوتی ہے
{7} صرف عربی کتب پڑھنا
کہ عربی ذہن کھولتی ہے
سیدی عمر فاروق کا فرمان ہے عربیت سیکھو کیونکہ عربیت عقل میں اضافہ کرتی ہے
{8} ذکر اللہ کی کثرت کرنا
کہ سکون و اطمینان نصیب ہوتا رہتا ھے اور حصولِ علم کے دوران اطمینان سب سے بڑی نعمت ہے
{9} کسی سے جلد مرعوب نہ ہونا
کہ جلد متاثر ہونے والی طبعیت موثر نہیں ہو سکتی
{10} انوکھا نکتہ ذہن میں آئے تو الحمد للہ پڑھ لینا
کیونکہ شکر نعمت بڑھاتا ھے
تقریبا چالیس دن آپ کوئی کام کر لیں تو وہ آپ کی عادت ثانیہ بن جائے گا تو کوشش کریں مذکورہ کاموں کو مسلسل چالیس دن کریں ان شاءاللہ خود میں بہت تبدیلی محسوس کریں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
