آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 2
سیدہ کائنات فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنھا کی ایک کنیت ام ابیھا بھی ہے
جس کا ظاہری معنی اپنے باپ کی ماں ہے
آپ کی یہ کنیت مختلف کتب میں منقول ہے
معجم کبیر میں مصعب زبیری سے منقول ہے
كُنْيَةُ فَاطِمَةَ أُمُّ أَبِيهَا
سیدہ فاطمہ کی کنیت ام ابیھا ہے
تاریخ الاسلام میں امام ذھبی نے فرمایا
كنيتها فيما بلغنا أم أبيها
سیدہ فاطمہ کی کنیت جو ہم تک پہنچی وہ ام ابیھا ھے
الاصابہ میں ابن حجر عسقلانی نے فرمایا
كانت تكنى أمَّ أبيها
سیدہ فاطمہ ام ابیھا کی کنیت سے منسوب تھیں
آپ کی کنیت ام ابیھا کی مختلف وجوہات بیان کی گئیں ہیں
اول کہ جس طرح ماں اپنے بچے پر شفیق ہوتی ہے سیدہ کائنات حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں شفقت کرتی تھیں
دوم کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ کی تکریم ویسے کرتے جیسے ماں کی تکریم کی جاتی سیدہ فاطمہ کے آنے پر قیام فرماتے اپنی جگہ پر بٹھاتے ماتھے پر بوسہ دیتے تھے
سفر پر جاتے وقت آخر میں سیدہ فاطمہ کے گھر اور سفر سے آتے ہی سب سے پہلے سیدہ فاطمہ کے گھر تشریف لاتے تھے
سوم کہ ام کا معنی اصل, بنیاد, جڑ ہے کیونکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد (سادات کرام) کی اصل و جڑ ہیں اس لیئے ام ابیھا کہا گیا یعنی اپنے والد کی اولاد کی بنیاد ہیں!
چہارم کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ سے ایسے سکون پاتے جیسے ماں سے سکون حاصل کیا جاتا ہے!
پنجم کہ ام کا معنی عماد یعنی سہارا ہے جیسا کہ قاموس میں ہے تو اس لحاظ سے معنی ہوا کہ سیدہ فاطمہ مشکل اوقات میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سہارا تھیں
جیسا کہ اوجھڑی والی روایت اور ان کو سونگھنے والی روایات سے سے معلوم ہوتا ھے
جیسا کہ سیدہ خدیجہ سہارا تھیں
ایسا بعض روایات میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنھا ہی کے پاس گئے جب جبریل امین کو دیکھا
کہیں اور نہیں گئے
اور قرآن کریم نے بھی ازواج کو سببِ سکون فرمایا
لتسکنوا الیھا
تاکہ تم بیویوں سے سکون پاؤ
اسی جائے سکون کے معنی میں سیدہ فاطمہ اپنے عظیم والد کے لیئے سہارا ہیں
ششم کہ امہات المومنین کو اللہ رب العزت نے مؤمنین کی ماؤں کی کنیت سے شرف بخشا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو سیدہ نساء اھل الجنہ ہونے کی وجہ سے شرف و عظمت کی زیادتی عطاء فرمائی تو آپ کی کنیت ام ابیھا ہوئی
جو کہ ام المومنین سے اعلی و ارفع مقام ہے!
ہفتم کہ مولا علی کو ابو تراب کی کنیت عطاء فرمائی اھل نظر پر مخفی نہیں کہ یہ کنیت محض واقعاتی و حادثاتی نہیں ہے
بلکہ یہ مقام ولایت کا اعلی مقام ہے جو مٹی سے بنے تمام اولین و آخرین کی ولایت کے منبع و مرکز ہے
کیونکہ انسان کی اکملیت و افضلیت عبدیت میں ہے اور انسانیت کی بنیاد مٹی ہے
تو لازم تھا کہ ابو تراب کے مقابل ایسی نوری حقیقت ہو جس سے اتحاد اکمل و افضل نسل پیدا کرے تو سیدہ کائنات کو ام ابیھا کنیت عطاء فرمائی
کہ ابو تراب مقامِ ولایت میں اعلی و ارفع اور ام ابیھا ختمِ نبوت کے فیض سے بلا واسطہ شرف یاب نوری حقیقت ہیں
یہی وجہ اس پاکباز خاتون کو جنتی حور فرمایا کہ نہ ان کو حیض آیا نہ عبدیت مین نقص ہوا
اور یہی وجہ ان کو اپنے جسم کو ٹکڑا فرمایا کہ یہ نوری حقیقت ہیں اور یہ شرف غیر کے لیئے نہیں ھے
ہم الحمد اللہ سیدہ کائنات سے محبت کرتے ہیں اور حدیث پاک میں آیا
إنما سميت فاطمة لان الله تعالى فطم محبيها عن النار
فاطمہ کا نام فاطمہ اس لیئے رکھا گیا کہ اللہ رب العزت اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو جہنم سے آزاد فرما دیا ہے!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
