عقائدِ_اھلِ_سنت 3
امام سفیان ثوری نے فرمایا
اسْتَوْصُوا بِأَهْلِ السُّنَّةِ خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ غُرَبَاءُ
اھلِ سنت سے حسن سلوک کرو( یعنی ان سے نرمی کرو) کیونکہ اھلِ سنت مسافروں کی طرح ہیں
یعنی بہت کم تعداد میں ہیں
{شرح اصول اعتقاد اھل السنہ}
آپ کا فرمان تبع تابعین کے لئیے تھا جب لوگ پختہ سنی تھے تصور کریں آج کیا عالم ہوگا؟؟؟
اھل سنت دو چیزوں سے مرکب ہیں
عقائد میں پختگی اور عمل میں سختی
اگر کوئی مرجیہ’قدریہ’رافضیہ’معتزلہ عقائد رکھتا ہے تو وہ بھی سنی نہیں
عمل میں پختگی
اگر کوئی عمل میں کمی کرتا ھے وہ بھی سنی نہیں
کیونکہ بہت سے صحابہ و تابعین تارکِ نماز کو منافقین و کافرین میں شمار کرتے ہیں
وہ احادیث کے ظاہری معنی لیتے ہیں
آج کل ہر بندہ عقیدے کی حد تک تو سنی ہے مگر وہ بھی اس وقت تک جب تک عقیدہ پسند کے مطابق ہو
اور عمل کی حد تک سنی تلاش کئیے جائیں تو واقعتاً آٹے میں نمک سے بھی کم سنی ہوں گے
•نہ کوئی عالم نہ پیر نہ درویش نہ عوام سوا اولیاء کرام کے اس زمانہ میں کوئی سنی نہیں بچتا•
امام سفیان ثوری کا ایک اور فرمان ھے
جب تجھے معلوم ہو کہ ایک سنی مشرق میں ہے تو اس سے دعا کرواؤ
اگر معلوم ہو ایک سنی مغرب میں ہے تو اس کو سلام بھیجو کیونکہ آج کل سنی بہت کم ہو چکے ہیں
یہ اس وقت کا حال ہے جب امام مالک تھے امام شافعی تھے امام احمد تھے امام اعظم تھے
تو سوچیں آج کل اھل سنت کتنے کم اور پردیسی ہوں گے؟؟؟
مگر تعجب ہے آج اکثر خود کو تو پکا ٹھکا سنی ثابت کرتے ہیں مگر سامنے والے کو مومن تسلیم کرنا مشکل لگتا ہے
اپنا عقیدہ و عمل مضبوط کریں پھر تبلیغ کریں فتنہ نہیں پھیلے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
