مجوسیوں کے بیٹے

عقائدِ_اھلِ_سنت 2

رافضی سیدنا خالد بن ولید سے کیوں بغض رکھتے ہیں ؟

طبقات الحنابلہ میں ھے کہ

امام احمد بن حنبل سے روافض (شیعوں) کے بارے پوچھا گیا
فرمایا

لا تسلم عليه، وإذا سلم لا يرد عليه

اُن کو سلام نہ کرو اور اگر وہ سلام کریں تو جواب نہ دو
معلوم ہوا روافض سے سلام و کلام منع ھے

ابن رجب حنبلی امام تھے

وہ اُس بندے سے تعلق توڑ لیا کرتے تھے جو

روافض کے جنازے میں شریک ہوتا
بلکہ جو کسی رافضی کو غسل دیتا
بلکہ جو کسی رافضی کے جنازے کو کندھا دیتا

غور کیجئے یہ ہمارے اَسلاف کا طریقہ تھا اُن ابناء مجوس کے ساتھ جو صحابہ کرام کو سب و شتم کرتے تھے

زیر نظر تصویر میں صاف نظر آرہا ھے
کہ
مجوسیوں کے بیٹوں نے عمر فاروق اعظم کو شہید کرنے والے مجوسی سے مدد مانگی ہے بلکہ اس کا مزار بنا رکھا ہے

اِسی لیئے ان غداروں سے قطع تعلقی واجب ھے
اصل میں ان کے دِلوں میں بغضِ صحابہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جیسے ہم اھلِ سنت یا رسول اللہ کہنے والوں کے دِلوں میں حبِ اھلِ بیت و محبتِ صحابہ کوٹ کوٹ کر بھری ہے
یہ فارسی النسل؛ سیدی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے بھی بغض رکھتے ہیں
پتا ہے کیوں ؟
حالانکہ سیدی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مولا علی کے سامنے کبھی نہیں آئے کبھی حضرت امیر معاویہ کی حمایت میں نہیں بولے وہ تو ان کے معاملہ سے بہت پہلے وصال فرما چکے تھے
پھر بھی ان مجوسیوں کے بیٹوں کے دِلوں میں دنیا کے سب سے عظیم فاتحِ اسلام کا بغض کیوں ہے ؟
اس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ خالد بن ولید نے ایران فتح کیا مجوسیوں کی صدیوں سے بھڑکتی آگ جس کی پوجا کرتے تھے بجھایا قیصر و کسریٰ کا تخت زمین بوس کیا اسی وجہ سے ایرانی قوم پرست سیدی خالد بن ولید سے بغض رکھتے ہیں
ان کا دین بغضِ صحابہ پر قائم ہے اور ہمارے دین کی بنیاد محبتِ صحابہ ہے

⁦✍️⁩ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top