سفید اور سیاہ میں سے کونسا رنگ افضل و بہتر ہے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 116

امام اجل عارف باللہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمة اللہ تعالی علیہ نے ایک مختصر سا رسالہ بنام

نزھة العمر فی التفضیل بین البیض و السود و السمر
یعنی سفید سیاہ اور گندمی رنگ میں کونسا افضل و بہترین رنگ ہے
لکھا
علامہ سیوطی سے پہلے بھی علماء نے سفید و سیاہ رنگ میں مقابلہ کرواتے ہوئے کتابیں لکھی ہیں
حافظ منذری نے فرمایا کہ ابو العباس ناشی نے
تفضیل السود علی البیض
کتاب لکھی جس میں سیاہ رنگ کو سفید پر فضیلت دی ہے

حافظ ابن شیبہ نے مصنف میں روایت بیان کی کہ سیدہ عائشہ نے فرمایا

البیاض نصف الحسن
سفیدی نصف حسن ہے
یعنی نین نقش اچھے نہ بھی ہوں تو سفید رنگت بھی آدھے حسن کا کام کرتی ہے

حلیۃ الاولیاء میں ہے شب معراج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت میں ایک گندمی رنگ کی حور دیکھی
بتایا گیا کہ یہ جعفر بن ابی طالب کے لیئے اللہ رب العزت نے پیدا فرمائی ہے
کیونکہ ان کو گندمی رنگت پسند ہے
جاحظ نے کہا کہ سیاہ رنگ والے کھلے دل و ہنسی مزاح کرنے والے اور حسن ظن رکھنے والے ہوتے ہیں
سفید رنگت میں حسن تو ہوتا ہے مگر بہت دفع کشش نہیں ہوتی
جبکہ گندمی رنگ میں بہت کشش ہوتی ہے
جبکہ سیاہ رنگ میں اخلاق و حوصلہ زیادہ ہوتا ہے

جس سے ممکن ہو سکے یہ منفرد رسالہ ضرور پڑھیں
تجلیاتِ الٰہی میں سے ایک تجلی سیاہ رنگ کی ہوتی ہے
نظم؟ قرآن سیاہ رنگ کی روشنائی سے لکھی جاتی ہے
جنت الفردوس شدتِ سبزہ کی وجہ سے سیاہی مائل ہے
تصور کریں حسین سے حسین چہرے کی پلکین اور بھنویں سفید ہو جائیں تو کیا حسن باقی رہے گا ؟
سفیدی حسن تب بنتی ہے جب سیاہی میں گِھری ہوئی ہو کہ حسنِ مہتاب ظلمتِ شبِ دیجور میں غضب ڈھاتا ہے
روئے جاناں مثلِ مہتاب ہو مگر جب کاکلِ مثلِ شبِ ظلمت لہراتے ہیں تو افق پار گھٹا ٹوپ بادلوں میں بجلی کوندنے کا منظر پیدا کرتے ہیں جو قلوبِ عشاق پر گرتی ہے اور جَلا کر جِلا دیتی ہے
معلوم ہوا کہ سفیدی بغیر سیاہی کے ادھوری ہے
حسن و جمال رنگت کا نہیں نقوش کا نام ہے کیونکہ جب کسی کو یاد کیا جاتا ہے رنگت نہیں نقوش ذہن میں ابھرتے ہیں اور کسی کو بھولنا اُن نقوش کا مٹ جانا ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top