سبحان کا معنی پاک کیوں اور کیسے ہے

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 14

°°° سبحان نام رکھنا کیسا °°°

لفظِ تسبیح السَبح سے ماخوذ ہے جس کا معنی بُعد یعنی دوری ہے
اھلِ عرب کہتے ہیں

سُبحانَ مِنْ كَذا
وہ فلاں سے کتنا ہی دور ہوا
یعنی اس میں دوری کے ساتھ تعجب والا معنی ہوتا ہے
اسی طرح پانی پر تیرنے والے کے بارے کہا جاتا ہے یسبح یعنی وہ پانی کے اوپر تیر رہا ہے اس میں پانی کی گہرائی سے دور ہونے کا معنی ہے

معلوم ہوا تسبیح کا معنیٰ بعد و دوری ہے

سبحان الله کا معنی الله رب العزت پاک ہے
کیوں کرتے ہیں؟

مذکورہ تحقیق { سبحان کا معنی دوری اور تعجب ہے } سے ثابت ہوا کہ
سبحان الله کا معنی ہوا کہ قلوب و افکار کو اس گمان سے دور و نفور کرنا کہ اللہ رب العزت کی ذات و صفات و افعال میں عیب ہیں
اسی طرح نفل نماز کو السُبحة کہتے ہیں
اور السَبحة حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کا نام بھی تھا
{ القاموس }
قاموس میں ہے
کہا جاتا ہے
انت اعلم بما فی سبحانک
تو اپنے دل میں جو ہے اسے زیادہ جانتا ہے
یہاں سبحان سے مراد اھلِ عرب دل لیتے ہیں
آگے ذکر ہے
سبحان بن احمد ہارون الرشید کے پوتے کا نام ہے
معلوم ہوا سبحان نام رکھنا جائز ہے
کیونکہ سبحان اللہ رب العزت کے صفاتی ناموں میں سے نہیں ہے
سبحان مصدر ہے اسی وجہ سے یہ فعلِ محذوف سبحتُ کی وجہ سے منصوب ہے
اصل عبارت ہے
سبحتُ سبحانَ الله

اللہ رب العزت کے صفاتی نام فَعول کے وزن پر آتے ہیں مثلا غَفور وَدودد مگر سُبوح و قُدوس فُعول کے وزن پر آتے ہیں لہذا سُبُّوح اور قُدُّوس پڑھا جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top