المزاح_و_الظرافت 63
ابو سلمہ عبد الرحمن کچھ لوگوں کے ساتھ تھے تو دور سے ایک ریوڑ دیکھا تو کہنے لگے
یا رب اگر تیرے علم میں ہے کہ میں خلیفہ بنوں گا تو مجھے ان کا دودھ پلا دے
یعنی انہوں نے نیک فال مراد لی کہ دودھ پی لیا تو خلیفہ بنوں گا
جب وہ ریوڑ قریب آیا تو وہ سب بکرے تھے
❗ سیر اعلام النبلاء ❗
اسی وجہ سے ہر چیز سے فال نہیں نکالنی چاہے
علماء کرام نے قرآن کریم سے فال نکالنا منع فرمایا ہے کیونکہ جس آیت پر ہاتھ آئے وہ عذاب والی بھی ہو سکتی ہے
جیسے ایک دیہاتی نے اپنی شادی کے لیے قرآن کریم سے فال نکالنے کے لیے ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ اس آیت پر پڑا
خُذْهَا وَ لَا تَخَفْٙ
پر آیا وہ بڑا خوش ہوا کہ اس کا معنی ہے پکڑ لو اور خوف نہ کرو
جبکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اژدھا کے بارے میں سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو حکمِ ربانی تھا کہ اس اژدھا کو پکڑ لو خوف نہ کرو
اور دیہاتی اسے بیوی بنائے بیٹھا تھا
لہذا فال کی جگہ اعمال صالح کریں ورنہ بکرے آ سکتے ہیں یا پھر اژدھا ہاتھ میں آ سکتا ہے
✍️ #سیدمہتابعالم
