دو سمندر کیوں نہیں مل پاتے

علوم_القران 10

مختلف مزاج والوں کا گزارہ کیسے ہو سکتا ہے

جب ہم اوپر جاتے ہیں تو کثافت کم ہوتی ہے
درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے
اور ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے

اور پانی میں جیسے جیسے ہم نیچے آتے ہیں
کثافت کم ہوتی جاتی ہے
درجہ حرارت کم ہوتا ہے
اور ماحول کا دباؤ کم ہوتا جاتا ہے
اور جب ہم پانی میں زیادہ نمک ڈالتے ہیں اس کی کثافت بڑھتی ہے اس کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور ماحول کا دباؤ بڑھتا ہے
جب دو سمندر ملتے ہیں جہاں نمکین گرم اور کم نمکین ہوتا ہے اور زیادہ نمکین کی کثافت کم نمکین کی کثافت سے زیادہ ہوتی ہے
اسی وجہ سے وہ دونوں پانی مختلط (مکس) نہیں ہوتے یعنی قرآنی الفاظ کے مطابق ایک دوسرے سے تجاوز نہیں کرتے
قرآن کریم نے فرمایا
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ
اس نے دو سمندر جاری فرمائے بظاہر وہ آپس میں ملتے ہیں مگر ان کے بیچ ایک پردہ جس کی وجہ سے ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا
قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے سائنس کی طرف اشارہ کیا کہ ہر ایک پانی ایک حد میں ہے دوسرے پانی پر غالب نہیں آسکتا
اسکی سائنسی وجہ یہ ہے کہ
سمندری پودوں کی ہر نوع اپنی خوراک میں معدنی نمکیات اور پودوں میں فرق ہوتا ہے
اور سمندری مخلوق کی مختلف اقسام بھی پانی کے الگ الگ ہونے کی وجہ ہے
°°° یعنی کم نمکین پانی میں پودے, جانور, معدنیات, زیادہ نمکین پانی میں جانوروں, پودوں, معدنیات سے الگ ہوتے ہیں °°°
اسی وجہ سے کڑوا میٹھا پانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں مگر (مختلط) مکس نہیں ہوتے
اور قرآن کریم نے سائنس کے آج حل کی ہوئی بات چودہ سو سال پہلے بیان فرما دی ہے
اس میں ایک لطیف اشارہ بھی ہے کہ دو متضاد مزاج کے لوگ زندگی بھر ساتھ رہ سکتے ہیں
جبکہ ان کے اپنے مزاج میں اعتدال ہو وہ سرکشی نہ کریں
مثلاً غصے والا اور نرم طبیعت شخص زندگی گزار سکتے ہیں اگر وہ غصیلا حد سے نہ بڑھے
سخی اور کنجوس میاں بیوی کا گزارہ ہو سکتا ہے اگر وہ اپنی طبعیت و مزاج صرف خود پر لاگو کریں
تیز زبان اور بے زبان کا گزارہ ہو سکتا ہے اگر وہ اپنی حدوں میں رہیں
••• الغرض ہر متضاد مزاج جوڑے کی نِبھ سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ ہر ایک اپنے راستے پر چلے اور اپنا مزاج دوسرے پر تھوپنے کی کوشش نہ کرے اور نہ دوسرے کو خود کے مزاج میں ڈھالنے کی کوشش کرے •••

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top