دل میں نور بڑھائیں فتور نہیں

عشقِ_سیدِ_عالم 77

سیدی عبد العزیز الدباغ فرماتے ہیں

إنَّ السّراجَ إذا تغذّى قَوِيَ نُورُه وإذا تُرِك بَقِيَ على حالتِه وكذا حالُ العارفين إذا سمعوا كلامَهُ ﷺ : تقوى أنوارُهم وتزدادُ معارفهم وإذا سمعوا كلامَ غيره بقوا على حالتهم
جب چراغ مین تیل ڈالا جائے تو اس کا شعلہ بڑھتا ہے اور اگر اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو اپنی حالت پر باقی رہتا ہے
عارفین کا ایسا ہی حال ہوتا ہے جب وہ حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا کلام سنتے ہیں تو ان کا نور قوی ہوتا ہے اور معرفتیں بڑھتی ہیں اور جب حضور کے سوا کسی کا کلام سنتے ہیں تو اپنی حالت پر باقی رہتے ہیں
❗ الابریز من کلام سیدی عبد العزیز ❗
نور و تجلی کا مرکز دل ہوتا ہے اور جب دل میں نور بڑھے تو اس کا اثر چہرے پر ظاہر ہوتا ہے اور چہرہ چمکنا شروع کر دیتا ہے
یہی وجہ ہے کہ صالحین کریم پاؤڈر اور فیس واش وغیرہ کے ناموں سے بھی انجان ہوتے ہیں مگر چہرے چاند کی طرح چمکتے ہوتے ہیں
کیونکہ ان کے دل چمک رہے ہوتے ہیں
پھر حضور سے کلام عارفِ کامل کا نور بڑھاتا ہے
اسی کے تحت احادیثِ مبارکہ پر کام بھی آتا ہے کہ جو حدیثی کام کرتا ہے وہ نورِ مصطفیٰ سے وافر حصہ پاتا ہے

حدیثِ پاک میں آیا

نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا
الله رب العزت اس آدمی کے چہرے کو تازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی اسے یاد کیا اور آگے پہنچایا
❗ ترمذی شریف ❗
کلامِ رسولِ خدا سمجھنا پھر اس کے معانی و مفاہیم بیان کرنا کارِ عظیم ہے
اس کام میں مشغول شخص کو دعاءِ نبی ہے
اسی وجہ سے علماء کے چہرے بغیر میک اپ کے شاد و آباد ہوتے ہیں
جن کے کانوں میں اداکاروں کے ڈائیلاگ مسخروں کی ہفوات اور سیاست دانوں کی ایک دوسرے کے خلاف بکواسات گونجتی رہتی ہیں ان کے دِلوں میں نور نہیں فتور بڑھتا ہے اور یہی دل کے فتور والے نور والوں کو برا بھلا کہتے ہیں
لہذا اپنے آنکھ اور کان نیک لوگوں پر لگائیں دنیادار نور نہیں فتور پیدا کرتے ہیں
حضور کی باتیں کریں سنیں کتابیں پڑھیں پڑھائیں دل نورٌ علی نور ہو جائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top