حلوے سے کبھی کوئی مرا نہیں

ذاتی_مطالعہ 124

بختیشوع نے کہا
کھانے کے بعد معدے میں ابال سا اٹھتا ہے اگر حلوہ یعنی (کچھ بھی میٹھا) کھا لیا جائے تو وہ ابال ساکن ہوجاتا ہے
❗محاضرات الادباء ❗

بختیشوع عباسی دور کا بہت بڑا عیسائی طبیب تھا

حجاج بن یوسف کے پاس ایک دیہاتی آیا اسی وقت کھانا رکھا گیا
حجاج نے دیہاتی کو کھانے کی دعوت دی
پھر آخر میں حلوہ (کچھ میٹھا) لایا گیا تو حجاج نے شرارتاً وہ حلوہ دیہاتی کے لیئے چھوڑ دیا
جب آخری لقمہ رہ گیا تو حجاج کہنے لگا
جس نے یہ آخری لقمہ کھایا اس کی گردن کاٹ دوں گا

حجاج واقعی ہزاروں کا قاتل تھا
دیہاتی کبھی حجاج کو دیکھے اور کبھی حلوے کو دیکھے پھر کہنے لگا
اے امیر میرے بچوں کا خیال رکھنا یعنی میری گردن کٹ جانے کے بعد اور پھر وہ آخری لقمہ کھا گیا

حجاج ہنس ہنس کے زمین پر لیٹ گیا
ایک شخص حلوہ بہت شدت سے کھا رہا تھا
کسی نے کہا دھیان سے کھاؤ کہیں اس کے سبب مر ہی نہ جاؤ
وہ کہنے لگا میرے گھر کے راستے میں قبرستان ہے میں نے آج تک نہیں سنا کوئی حلوے کے سبب مرا ہو
❗محاضرات الادباء ❗

حلوہ نہایت مفید شے ہے خاص طور پر کھانے کے بعد میٹھا کھانا فائدہ مند ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top