حسین چہروں سے مدد طلب کرو

اسلامی_طرزِتربیت 105

کیا آپ سے بھلائی طلب کی جا سکتی ہے

اسلام میں باطنی حسن کے ساتھ ساتھ ظاہری حسن کا بہت لحاظ رکھا گیا ہے

عون بن عبد اللہ کہتے ہیں
من کان فی صورۃ حسنۃ و نسب و حسب و وسع علیہ الرزق کان من خلصاء اللہ

جو حسین صورت والا ہو , اعلی حسب نسب والا ہو اور اس پر رزق وسیع ہو تو وہ اللہ کے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے

سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں
یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراۃ سواء فاصبحھم وجھا

لوگوں کی امامت وہ کرے جو قرآن کا بہتر قاری ہو اگر سب برابر ہوں تو وہ امامت کرے جو حسین چہرے والا ہو

ابن عباس سے مروی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
النظر الی الوجہ الحسن یجلو البصر
حسین چہرے کی طرف دیکھنا نگاہ کو تیز کرتا ہے

یاد رہے یہاں مراد حرام نظر نہیں ہے

اخبار النساء لابن جوزی میں ہے کہ
یحیی بن سفیان نے مصر میں ایک حسین و جمیل لونڈی دیکھی جس کو فروخت کے لیئے پیش کیا گیا تھا تو وہ کہنے لگے
ما رأیت وجھا قط احسن من وجھھا صلی اللہ علیھا

میں نے اس چہرے سے زیادہ حسین چہرہ نہیں دیکھا اللہ اس چہرے پر رحمت کرے
کسی نے عرض کیا حضور آپ متقی و فقیہ ہونے کے باوجود لونڈی کے لیئے صلی اللہ کہ رہے ہیں؟

فرمایا
صلی اللہ علیھا و علی کل ملیح
*اللہ اس پر اور ہر ملیح چہرے پر رحمت بھیجے

ملیح مطلب حسین وجمیل

سیر اعلام النبلاء میں ابو حمزہ السکری کے حالات میں ہے کہ
ان کو السُکری (شکر والا) اس لیئے نہیں کہا جاتا تھا کہ یہ شکر بیچتے تھے بلکہ ان کے کلام میں مٹھاس کی وجہ سے ان کو السُکری کہتے تھے
تاریخ دمشق میں ہے
ابو بکر نے کہا میں نے ابن الجلاء کو دیکھا کسی نے ان سے پوچھا آپ کے والد شیشے یا تلواریں صاف کرتے تھے؟
جس کی وجہ سے ان کو (الجلاء صاف کرنے والا) کہا جاتا ہے؟
فرمایا نہیں
بلکہ وہ اپنے حسنِ کلام سے دلوں کا زنگ صاف کیا کرتے تھے .
کچھ لوگوں کا کلام دل موہ لیتا ہے اور جب متکلم خود حسین ہو کلام بہترین ہو تو پھر بقول شاعر

اس شوق میں کی تجھ سے ہزاروں باتیں
کہ تیرا حسن ترے حسنِ بیاں تک دیکھوں

حسنِ گفتار حسنِ کردار حسن اظہار اللہ کی نعمتیں ہیں اور یہ خاص بندوں کی دی جاتی ہیں

حدیث پاک میں ہے
اطلبوا الخیر عند حسان الوجوہ
حسین چہرے والوں سے خیر طلب کرو
(طبرانی)
جس کا چہرہ حسین ہے اس کا باطن بھی عموماً حسین ہوتا ہے اس لیئے اچھے چہرے والوں سے مدد طلب کا ارشاد ہوا

اسی لیئے امام شافعی نے فرمایا
کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ تم حسین شکل , جمیل صورت , مناسب ترکیب سے مرکب جسم دیکھو مگر اس جسم سے متعلق روح کی اس جسم سے مناسبت ہوتی ہے
یعنی جسم کی ظاہری خوبصورتی روح کی خوبصورتی کی وجہ سے ہوتی ہے
(کتاب الروح لابن قیم)
اللہ رب العزت نے جسے اچھی شکل و صورت دی وہ اس وجہ سے کہ اس کی روح خوبصورت ہے
اسی وجہ حدیث پاک میں اچھے چہرے والوں سے مدد مانگنے کا حکم ہے
کیونکہ ان کی روح معاونت و مدد کرنے والی ہوتی ہے

بارہا کا تجربہ و مشاہدہ ہے
کہ جن لوگوں کے چہرے حسین ہوتے ہیں وہ نرم دل اور تعاون کرنے والے ہوتے ہیں
یا یوں کہ لیں کہ دلوں کی خوبصورتی چہروں کو حسین کر دیتی ہے
اور دل کی سختی چہرے پر بھی کرختگی لے آتی ہے

اسی لیئے حسن والوں سے بھلائی طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے
آپ غور کریں کہ آپ سے بھلائی طلب کی جا سکتی ہے؟؟؟

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top