اسلامی_طرزِتربیت 104
اگر عام مکھی شہد پیدا کرے تو کیا شہد کی مکھی ناراض ہو جائے گی؟
ہر گز ناراض نہیں ہوگی مگر مکھی نے کبھی شہد پیدا نہیں کیا اور نہ کبھی کر سکے گی
حالانکہ عام مکھی اور شہد کی مکھی دونوں خاندانی لحاظ سے حشرات الارض کی قسم سے یعنی دونوں کا خاندان ایک ہی ہے
تو پھر فرق کیا ہے؟
اصل فرق یہ ہے کہ شہد کی مکھی وحی آسمانی پر عمل کرتی ہے
اللہ ربّ العزت نے شہد کی مکھی کے بارے فرمایا
وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِىۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُوۡنَۙ
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں گھر بنائے اور درختوں اور چھتوں میں
” تو جب شہد کی مکھی نے اس حکم ربانی کو تھاما تو دنیا کا بہترین رس یعنی حسین و جمیل پھولوں کا رس پیا تو دنیا کا سب سے قیمتی مشروب شہد پیدا کیا “
جبکہ عام مکھی تو اس نے آسمانی تعلیمات پر عمل نہ کیا
بلکہ گندگی و غلاظت پر بیٹھنا شروع کیا تو لوگوں میں بیماریاں پھلا دیں اور لوگوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا
کیونکہ° عام مکھی اکیلی کام کرتی ہے اتحاد و اتفاق سے کام نہیں کرتی °
شہد کی مکھی شفاء والا شہد دیتی ہے
جبکہ عام مکھی انسان سے بقدر حیثیت چھینا جھپٹی کرتی ہے
قرآن کریم میں ہے
وان یسلبھم الذباب شیئا
اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو
مذکورہ تقریر سے واضح معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے اور اتحاد و اتفاق سے کام کرنے اور پاک و صاف کھانے سے کیا برکات ملتی ہیں کہ قرآن میں اس کا ذکر اس کے نام کی مکمل سورت ہے اور شفاء والا شہد تیار کرتی ہے
اور احکاماتِ خدا پر عمل نہ کرنے اور اتفاق و اتحاد نہ کرنے اور ناپاک کھانے پینے کا وبال کیا ہوتا ہے کہ غلاظت اسکا مقدر ہے اور بیماریاں پھیلاتی ہے
°°° ایک گھر سے لیکر کسی ادارے تک اور پھر ملک اور ملک سے لکیر دین تک تمام جگہوں پر شہد کی مکھی اور عام مکھی کی مثال سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے °°°
✍️ #سیدمہتاب_عالم
