جب مجتہد نے غیر مجتہد کی جائے قدم کو بوسہ دیا

تصوف_وصوفیاء 49

°°° کسی شہر کی طرف کب نسبت کی جائے °°°

امام سخاوی المنھل العذب الروی میں امام نووی کے حالات کے تحت عبد اللہ بن مبارک کا فرمان نقل کرتے ہیں
ما أقام ببلد أربع سنين نُسب إليها
جو کسی شہر میں چار سال گزار لے گا وہ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا
یعنی انسان کا وطنِ اصلی جو بھی ہو چار سال کسی دوسرے شہر میں گزارنے پر اسی شہر کا رہائشی قرار پائے گا اس کی نسبت سے مشہور ہوگا
بغداد کا پیدائشی دمشق میں چار سال گذارے گا تو دمشقی کہلائے گا
علماء کرام بہت بار کہتے ہیں مولدا فلانی و مسکنا فلانی و مدفنا فلانی
مثلاً مولدا مکی و مسکنا مدنی و مدفنا بغدادی
کبھی کبھار یوں بھی کہتے ہیں مکی ثم مدنی ثم بغدادی

امام نووی کا لقب محی الدین ہے یعنی دین کو زندہ کرنے والا
امام نووی اسے ناپسند فرماتے تھے حتی کہ آپ نے فرمایا
لا أجعل في حلٍّ من لقّبني محيي الدين
جو مجھے محی الدین کہے گا میں اسے معاف نہیں کروں گا
امت کے اکابر علماء میں سے ایک امام نووی بھی تھے
اور ولی کامل بھی تھے
امام سبکی جو کہ مجتہد ہیں جب امام نووی کی تدریس کی جگہ پر تشریف لائے تو وہاں بیٹھے نہیں بلکہ امام نووی کے بیٹھنے کی جگہ بوسہ دیا اور اپنا گال وہاں رگڑنے لگے
شاید یہاں ان کے قدم لگے ہوں
حالانکہ نووی مجتہد نہیں جبکہ سبکی مجتہد ہیں
یہ علماء کا علماء سے ادب ہے

“””باجود کثرتِ تعلیم و تعلم امام نووی آخری وقت میں افسوس کر رہے تھے کہ میں ذکر اللہ سے کیوں غافل رہا ساری زندگی علم پھیلایا جس سے لوگوں کو نفع ہوا میں قربِ الٰہی کے مقامات سے کیوں غافل رہا”””
حالانکہ امام نووی کو قطب الاولیاء بھی کہا جاتا ہے

علماءِ ظاہر کو اشاعتِ علوم کے ساتھ حصولِ معرفت کی طرف بھی توجہ رکھنی چاہئے کہیں علم میں خشکی نہ آ جائے
ایک ہی آیت یا حدیث کی شرح عالم ظاہری اور عالم باطنی سے کروائی جائے تو صوفی عالم کے نکات آپ کو حیران کر دیں گے
یہ وہی علم ہے جو لدنی کہلاتا ہے جس کے جام کتابوں سے نہیں نظروں سے پلائے جاتے ہیں
مگر اولاً علوم ظاہری شرط ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top