تصوف_وصوفیاء 50
سیدی سفیان ثوری فرماتے ہیں
والذی لا الہ الا ھو لقد حلت العزلة فی ھذا الزمان
اس ذات پاک کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ہمارے اس دور میں گوشہ نشینی حلال ہو چکی ہے
امام غزالی اس پر فرماتے ہیں
اگر ان کے زمانے میں گوشہ نشینی حلال تھی تو پھر آج تو واجب ہوچکی ہے
(احیاء العلوم)
اور ••• ہم اپنے زمانے کو دیکھیں تو شاید گوشہ نشینی فرض ہو •••
جو لوگوں سے دور رہتا ہے وہ فتنوں سے دور گناہوں سے دور رہتا ہے
شم العوراض میں ملا علی قاری نے لکھا کہ
ایک شخص نے اپنے گھر کے دروازے پر لکھا اللہ رب العزت اسے پوری جزاء دے جسے ہم نہیں جانتے
اور ہمارے دوستوں کو جزاء نہ دے
کیونکہ ہمیں جو بھی تکالیف پہنچی وہ دستوں کے ہاتھوں سے ہی پہنچی ہیں ان سے دوری ہی ہمارے لیئے سعادت مندی ہے
{ اس کا بار ہا مجھے بھی تجربہ ہوا ہے کہ ہمیشہ دوست وہ تکلیف پہنچاتے ہیں کہ اجنبی سوچ بھی نہیں سکتا }
اسلاف کا اس میں اختلاف ہے کہ دوستوں کی کثرت مفید ہے یا کمی زیادہ اچھی ہے
جنہوں نے دوستوں کی دعاؤں پر اور مرنے کے بعد ایصالِ ثواب پر نظر کی انہوں نے دوستوں کی کثرت کو اچھا کہا
اور جنہوں نے دوستوں کی جفاء اور دنیا داری و دنیاوی اغراض کو دیکھا انہوں نے دوستوں کی کثرت کو اچھا قرار نہیں دیا
اور فی زمانہ کثرتِ دوستاں نقصان دہ ہے
بندہِ مومن واقف کاروں کی کثرت کے باوجود اجنبی و مسافر ہے اور یہی آخری زمانہ و قرب قیامت کی نشانی ہے
حدیث پاک میں ہے
موت الغریب شھادة
مسافر کی موت شہادت ہے
یہاں پر غریب سے مراد مسافر بھی ہے اور وہ بھی جو اپنے گھر محلے میں ہونے کے باجود دنیا داروں کی نگاہوں میں جچتا نہ ہو اور دین پر ثابت قدم رہنے کی وجہ سے معاشرے میں ہلکا جانا جاتا ہو
ایسا دیندار اگرچہ وطن میں اپنے گھر والوں کے بیچ مرے تب بھی اسے مقامِ شہادت نصیب ہوگا
علماء کرام نے فرمایا
جو بندہ اپنے بیوی کے طعنوں اور دوستوں کی بیوفائی پر صبر کرے وہ بھی غریب کے زمرے میں آئے گا
یعنی ان شاءاللہ گھر میں ہونے کے باجود دین پر ثابت قدمی اور صبر و رضا کی وجہ سے مقامِ شہادت پائے گا
جس کا دین و ایمان جس محلے,شہر, میں مشکل میں پڑ جائے تو اسے وہاں سے ہجرت کرنا اور غریب یعنی مسافر بننا ہجرت کرنا فرض ہے
یہی معنی ہے آج کے دور میں گوشہ نشینی واجب ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
