جب روزوں پر پابندی لگائی جانے لگی تھی

تاریخِ_اسلامی 41

1961 میں تیونس کے صدر بورگوئیبا رمضان میں روزہ نہیں رکھتا تھا بلکہ لوگوں کو ناشتے پر بلایا جن میں مذہبی افراد کو بھی مدعو کیا اور مسئلہ یہ رکھا کہ ملک کی ترقی اور زراعت و انڈسٹری میں اضافے کے لیئے روزے کی معافی ہونی چاہیے
انہوں نے اس وقت تیونس کے مفتی اعظم طاہر بن عاشور سے کہا کہ وہ ایسے عذر کے سبب روزہ نہ رکھنے کی اجازت کے بارے میں فتویٰ جاری کریں

جب ابن عاشور تشریف لائے
لوگ منتظر تھے کہ وہ کیا کہیں گے
شیخ نے یہ آیت تلاوت کی
یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون
’’اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

پھر مفتی اعظم نے فرمایا
خدا نے سچ کہااور بورگوئیبا نے جھوٹ بولا
خدا نے سچ کہا اور بورگوئیبا جھوٹ بولا
خدا نے سچ کہا اور بورگوئیبا جھوٹ بولا

انہوں نے فتویٰ دیا کہ روزہ توڑنا حرام ہے

اور جس نے ایسا کیا اس نے دین میں ضروری چیزوں کا انکار کیا
اور مفتی اعظم نے اس دعوے کو باطل کر دیا کہ روزے سے پیداوار کم ہوتی ہے
زبانیں خاموش ہو گئیں اور تیونس کی حکومت کچھ نہ کر سکی
یوں امت میں پیدا ہوتا نیا فتنہ تباہ ہوگیا

مجھے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں وہ وقت بھی یاد ہے جب کرونا کی وجہ مساجد کو بند صفوں میں فاصلے جمعہ میں مخصوص افراد کی اجازت کے فتوے جاری ہوئے تھے
مگر پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک مردِ مجاہد صرف برملا دجالی پابندیوں کے خلاف کھڑا تھا
اور اس مردِ مجاہد نے نہ صفوں میں فاصلہ رکھا نہ جمعہ میں جامع مسجد کا دروازہ {گیٹ} بند کیا جبکہ دیگر علماء نے حکومتی سختی میں آ کر بند کیا تھا
••• وہ اور ہمارے مفتیان اعظم دونوں تاریخ بن گئے ہیں جنہوں نے صفوں میں فاصلے اور مساجد کے دروازے بند کرنے کا فتویٰ دیا •••
مگر وہ مردِ حر آج سر اٹھا کر کھڑا ہے اور تاریخ کے اوراق میں مفتی اعظم تیونس طاہر بن عاشور جیسا ہے
جو حکومت کی پرواہ نہیں کرتا اگر مگر کی پرواہ نہیں کرتا
اور تاریخ کا عظیم باب ہے
اور وہ ہیں ڈاکٹر اشرف اصف جلالی
جب بڑے بڑوں کی زبانیں کنگ تھی جن کے قلم چلے تو حکومت کی چاہت کے مطابق چلے , دجالی سازش کے سیاہی میں تر ہو کر جن کے قلموں نے فتویٰ جاری کیا تھا
اس وقت جلالی صاحب کا نہ قلم بہکا نہ زبان بھٹکی
وللہ الحمد
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top