اسلامی_طرزِتربیت 9
سپاہی ایک گاؤں میں داخل ہوئے اور وہاں کی تمام عورتوں کی عصمت دری کر دی
مگر ایک خاتون ایسی تھی جب اس کے پاس گھر میں سپاہی داخل ہو تو اس نے سپاہی کو قتل کر دیا اور سر کاٹ کر رکھ لیا
اور جب سپاہی اس گاؤں سے نکل کر چلے گئے تو تمام عورتیں اپنے پھٹے ہوئے کپڑے لیئے اپنے گھروں سے نکل آئیں اور ایک دوسرے کو روداد بیان کرنے لگیں
اتنے میں وہ بہادر خاتون اپنے گھر سے باہر نکلی عورتوں نے دیکھا کہ
اس نے گھر میں داخل ہونے والے سپاہی کا سر اس نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
اور نہایت غیرت و خودداری کے ساتھ وہ ان کی طرف آنے لگی
اس خاتون نے بلند آواز سے کہا کہ کیا تم نے سوچ لیا تھا کہ میں اسے مارے بغیر یا وہ مجھے مارے بغیر وہ میری عزت کو ہاتھ لگا سکتا تھا؟
گاؤں کی عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے
تاکہ وہ ان کی عزت باقی رہے اور ان کے شوہر کام سے واپس آنے پر ان سے یہ نہ پوچھیں کہ تم نے اس کی طرح مزاحمت کیوں نہیں کی؟؟؟
انہوں نے اس بہادر خاتون پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا
انہوں نے ذلت کو زندہ رکھنے کے لیئے عزت کا قتل کر دیا
یہی حال آج ہمارے معاشرے کے کرپٹ لوگوں کا ہے
وہ ہر عزت دار کو مارتے ہر دینی شخص کو حقیر جانتے ہیں تاکہ وہ ان کی کرپشن کے خلاف بات نہ کر سکیں
یہی حال دنیا داروں کا ہے جو اپنی بے دینی چھپانے کے لیئے علماء کو حقارت سے مولوی کہتے ہیں
اصل میں یہ لوگ اپنی عزتیں گنوا چکیں ہیں اور عزت داروں کا جینا حرام کر رکھا ہے
اب آپ جب کہیں بھی ایسے جملے سنیں ایسے لوگ دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ انہیں عورتوں کی اولاد سے ہیں جنہوں نے اپنی ذلت چھپانے کے لیئے عزت کو قتل کر دیا تھا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
