کس خوبی کی وجہ سے محبت کریں

اسلامی_طرزِتربیت 8

اوصاف و محاسن {خوںیاں} دو طرح کے ہوتے ہیں
وہبی اور کسبی

وہبی وہ خوبیاں جس میں انسان کی اپنی محنت کا عمل دخل نہ ہو مثلاً حسن و جمال [بغیر میک اپ والا] آواز کا اچھا ہونا” خاندان و نسب کا اعلیٰ ہونا
وہبی وہب سے ماخوذ ہے یعنی وہ جو الله رب العزت محض کرمِ خاص سے عطاء فرماتا ہے
وہبی پر تعریف کی جاتی ہے اور اس تعریف سے انسان کو پھولنا نہیں چاہیئے بلکہ جس ذات نے یہ خوبیاں دی ہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے
الله رب العزت فرماتا ہے
لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ
اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے
یعنی جو رب العالمین نے محض اپنے لطف و کرم سے دیا ہے اس پر ناشکری کرو گے اکڑ جاؤ گے تو سزا ملے گی
سیدی عمر بن عبد العزیز نے فرمایا
قَيِّدُوا النِّعَمَ بِالشُّكْرِ
نعمتوں کو شکر سے قید کر لو
❗کتاب الشکر لابن ابی الدنیا ❗
جنابِ غوث پاک فرماتے ہیں
الله کی نعمتیں جنگل کی گائیوں کی طرح ہیں یعنی انتہائی طاقتور تو ان کو شکر کی رسیوں سے باندھ لو
یعنی جب شکر کرو گے تو نعمتیں تمہارے پاس باقی رہیں گی ورنہ بھاگ جائیں گی
دوسری قسم کسبی نعمت ہے
کسب محنت کو کہتے ہیں یعنی وہ نعمتیں جن کو انسان جد و جہد محنت و کوشش سے حاصل کرتا ہے
مثلاً فنِ تقریر و علم حاصل کرنا اور دولت کمانا اور فنِ تحریر وغیرہ
کسبی پر داد دی جاتی ہے
اور اس پر کوئی یہ نہ سمجھے کہ محض میری محنت ہے حقیقت میں یہ بھی الله تعالیٰ کی دی ہوئی عقل و طاقت سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس میں انسان کی کوشش ہوتی ہے اسی وجہ سے اس کسبی کہتے ہیں
آپ حسن و جمال دیکھ کر یا اعلی نسب دیکھ کر اگلے بندے کو داد نہیں دے سکتے بلکہ اس کی تعریف بھی نہیں کر سکتے اُس کے حسن و جمال کی تعریف کرتے ہیں یا نسب و خاندان کی تعریف کرتے ہیں
حقیقت میں یہ تعریف حسن و جمال عطاء فرمانے والے کی تعریف ہوتی ہے
ہاں کسی کی کسبی خوبی دیکھ کر داد دی اور یہ تعریف کہلاتی ہے جاتی ہے
مثلاً شعر پر دار تعریف شاعر کی تعریف ہے
تحریر کی تعریف لکھنے والے کی تعریف ہے
آپ میری تحریر سے متاثر ہیں تو مطلب میری عقل سے متاثر ہیں
جب آپ تحریر کی تعریف کرتے ہیں تو اصل میں میری تعریف کرتے ہیں
اب سوال ہے تعریف کیوں کرتے ہیں ؟
میری ذات سے متاثر ہیں ؟
تو یہ غلط بات ہے کیونکہ میری ذات و نفس اور ہے عقل اور ہے
اگر میری ذات سے متاثر ہیں تو یقیناً مجھ سے محبت ہے
اور محبت کی وجہ تحریر ہے یعنی جس شے نے آپ کو مجھ سے جوڑا وہ میرا کسب ہے میری کسبی خوبی ہے
ایک خوبی دیکھ کر کسی کو سب کچھ مان لینا حماقت ہے کیونکہ مقابلے میں ہزار خامیاں بھلائے بیٹھے ہیں
اگر میرا اندازِ تدریس پسند ہے تو بس وہی پسند رکھیں نہ کہ کل ذات کو محبوب بنا لیں
اگر میرا علم پسند ہے تو وہی پسند کریں ذات کو محبوب نہ بنائیں
یہ نکتہ بے شمار مرد و خواتین بھلا دیتے ہیں پھر پریشانی کا شکار ہوتے ہیں
کسی کی خوبی وہبی ہو یا کسبی آپ کے دل میں اترے تو اسے عقیدت بنا سکتے ہیں محبت نہ بنائیں
کیونکہ وہ ایک دو خوبی آپ کو بنا سنوار کے دکھائی جا رہی ہے جبکہ در پردہ بیسیوں خامیوں کو آپ نہیں جانتے
محبت خوبیاں دیکھ کر چاہنا نہیں بلکہ خامیاں دیکھ کر دل میں جگہ دینا محبت ہے

سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top