جب بندہ صفتِ کن کا مظہر بن جائے گا

تصوف_وصوفیاء 35

اس دنیا میں انسان اللہ ربّ العزت کی صفات کا مظہر ہے
مثلا صفتِ سمع و بصر صفتِ علم و حیاۃ صفتِ قدرت و ارادہ صفتِ رحم و کرم وغیرہا

یعنی ••• اللہ ربّ العزت دیکھتا سنتا ہے تو اللہ رب العزت نے انسان کو بھی دیکھنے والا سننے والا بنایا ہے •••
اللہ رب العزت علم والا زندہ ہے تو انسان کو بھی علم والا اور زندہ بنایا
اللہ رب العزت قدرت والا اور ارادہ کرتا ہے تو انسان کو قدرت والا اور ارادے والا بنایا ہے

مگر یہاں فرق لا متناہی ھے کیونکہ رب العالمین بذات خود صفات کا مالک ہے جبکہ انسان اللہ کی عطاء سے ان صفاتِ عارضیہ کا عارضی مالک ہے
اسی لیئے شرک نہیں کہ اللہ بھی دیکھتا سنتا اور انسان بھی دیکھتا سنتا ہے وجہ اس کی وہی جو اوپر بیان کر دی گئی

اگر یہ فرق سمجھ لیا جائے تو مسلمانوں پر شرک کے فتوے بھی نہ لگیں
کیونکہ فرق ملحوظ ہوگا کہ اللہ داتا بذاتِ خود ہے ولی داتا اللہ کی عطاء سے ہے

اللہ ربّ العزت کی ایک صفتِ تخلیقی یعنی کُن بھی ہے یعنی وہ کہتا ہے ہو جا
تو شے عدم سے وجود میں, اور نہ ہونے سے ہونے کے دائرے میں آجاتی ہے

اور °°° اس صفتِ کن کا مظہر ہر بندے کو نہیں بنایا گیا صرف انبیاء کرام و خاص اولیاء کرام کو اس صفت کا مظہر بنایا گیا ہے °°°
مگر جنت میں ہر جنتی کو اس صفتِ کن کا مظہر بنایا جائے گا
جنتی پرندے کو دیکھ کر سوچے کا بھنا ہوا تو وہی اڑتا پرندہ بھنا ہوا ہو کر سامنے گر پڑے گا
بندہ اس پرندے کو کھا رہا ہوگا تو ذہن میں خیال آئے گا تلا ہوا تو ابھی جو ہاتھ میں بھنا ہوا تھا وہ تلا ہوا ملے گا

حدیث پاک میں ہے, ہر جنتی کے گھر پر طوبی درخت کی شاخیں لٹک رہی ہوں گی اور اس درخت کی جڑ جنت الفردوس میں ہوگی مومن اس کی جڑ کے پاس جایا کریں گے اور جس چیز کی آواز لگائیں گے اس پر وہ اُگے گی اسی لمحے نیچے گر جائے گی!
ایک بندہ جا کر گھوڑا کہے گا تو اس کے سامنے گھوڑا اُگے گا اس پر زین سجے گی بندہِ مومن کے سامنے گھوڑا گرے گا وہ اس پر سوار ہوگا اور اپنے گھر روانہ ہو جائے گا

جنت میں ایک بادل ہے جس کا نام مزید ہے
جب جنتی آپس میں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہوں گے تو وہ مزید بادل اوپر سے گزرے گا
اور بلند آواز سے کہے گا
اے مؤمنین کیا تمہیں کچھ چاہیئے
تو مومن جو کہے گا مزید بادل وہ برسائے گا

یحیی بن ابی کثیر کہتے ہیں خدا کی قسم اگر اللہ مجھے وہاں جنت میں لے گیا اور وہ بادل اوپر سے گزرا اس نے پوچھا کیا چاہئے تو میں کہوں گا
مجھ پر کنواری لڑکیاں برسا دو

جنت میں ایک نہر جس کا نام بیدخ ہے ہر جمرات کو جنتی وہاں جائیں گے اس کے کنارے پر قُبوں کے اندر لڑکیوں کی مورتیاں ہوں گی
جنتی وہاں جاکر ان کو چھونا شروع کریں گے جو مورتی پسند آگئی اس میں جان پڑ جائے گی
اور وہ جیتی جاگتی لڑکی بن جائے جنتی اس کو اپنی بیگم بنا کر گھر لے آئیں گے

الغرض جنت میں بندہ صفتِ کن کا مظہر بن جائے گا یوں کہ صرف دل میں تمنا ہونے سے ذہن میں خیال آنے سے شے کا وجود ہوجائے گا
ایک لمحے میں سات آسمانوں کو فاصلہ طے کر لے گا

جب اتنی عظیم نعمتیں وہاں میسر ہوں گی تو اس لحاظ سے عمل بھی سخت ہونا چاہئے بنیادی شرط ایمان پر خاتمہ ہے
اللہ ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے

دنیا میں بغض و عناد چھوڑیں, فتنہ و فساد چھوڑیں, اجر و ثواب جمع کریں کہ کل یہی کام آئے گا
کون کیا کرتا ہے کیوں کرتا ہے کیسے کرتا کس لیئے کرتا ہے یہ زمانہ ٹوہ میں پڑنے کا نہیں ہے
°°° خصوصاً فتنہ و فساد سے دور رہیں اور اخص الخاص دینی مباحثے جو کہ آج کل سراسر فتنہ ہیں ان سے دور رہیں ورنہ یہ آپ کے ثواب کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے °°°

{ یہ سب باتیں احادیث کی روشنی میں علامہ سیوطی کی کتاب البدور السافرۃ اور ابو نعیم اصفہانی کی کتاب صفات الجنۃ میں لکھی ہیں }
اور یہ کتاب درس نظامی کے نصاب میں ہونی چاہیئے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top