اپنی پسند کا میدانِ جنگ اختیار کریں

تصوف_وصوفیاء 36

••• انسان کے اصل تین دشمن •••

باز سانپ سے زمین پر مقابلہ نہیں کرتا بلکہ زمین سے شکار کرتا ہے اور ہوا میں اڑا لے جاتا ہے
کیونکہ زمین سانپ کا مسکن اور اس کے لیئے موزوں میدانِ جنگ ہے,
باز سانپ کو ہوا میں لے جا کر اپنی پسند کے میدانِ جنگ میں لے جاتا ھے
ہوا میں سانپ کا توازن بگڑ جاتا ھے اور قوت کم ہوجاتی ہے جبکہ باز کا وہ گھر ہے
یوں میدانِ جنگ بدلنے سے زہریلا سانپ ناکارہ ہو کر شکار بن جاتا ھے

” ایسے ہی شیطان طاقتور دشمن ھے, نفس عیار دشمن ھے بلکہ راز دار دشمن ھے, دنیا تجربہ کار دشمن ھے “

ان تین دشمنوں میں انسان کمزور ترین رہ جاتا ھے
° دنیا میں انسان کے اصل بنیادی حقیقی دشمن یہی تین ہیں°
تو ان کو شکست دینے کے لیئے ان کو اِن کے موزوں میدان سے نکال کر اپنے لیئے موزوں میدان اختیار کریں

اپنی نمازوں کو بلندی پر لے جائیں اور ان تین دشمنوں کو ہوا میں اچھال کر شکار کریں

انسان کا پہلا دشمن شیطان ہے
احیاء العلوم میں حدیث پاک میں
ان الشيطان ليجرى من ابن آدم مجرى الدم فضيقوا مجاريه بالجوع
شیطان انسان کے خون میں دوڑتا ھے تو تم اس کا راستہ بھوک سے بند کر دو

انسان کا پہلا دشمن شیطان ہے اور اس کو شکست دینے کا بہترین طریقہ حدیث پاک میں بھوک فرما دیا گیا
اور یہ بارہا کا تجربہ ہے بھوک سے شہوات مرتی اور عبادات میں دل لگتا ھے
خالی پیٹ سے حکمت کے وہ موتی نکلتے ہیں جو کثرتِ مطالعہ سے نہیں حاصل ہوتے

دوسرا دشمن نفس ہے
صوفیاء کرام نے ایک جملہ میں نفس کو شکست دینے کا طریقہ بیان کر دیا
مخالفة النفس هى رأس العبادة
نفس کی مخالفت عبادت کی بنیاد ہے

نفس کی اتباع مومن کو کمزور اور مخالفت نفس کو کمزور کرتی ہے •
نفس کیونکہ انسان میں پوشیدہ ہے اور انسان کا ہمراز ہوتا ھے اسی لیئے نفس سے لڑنا جہادِ اکبر فرمایا گیا

میدانِ جنگ میں ہونے والے شہید کو جنت ملتی ہے جبکہ نفس سے جنگ کرنے والوں کے بارے ارشادِ الٰہی ہے
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ
جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے
یعنی جہاد اکبر کے مجاہد کو رب العزت ملے گا

مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے ایسا آدمی احمق ہے جو ہر خواہش کو پورا کر لے
یعنی عقلمند وہ ہے جو نفس کی مخالفت کرے

تیسرا دشمن دنیا ہے
اسے شکست دینے کے دو طریقے ہیں
پہلا صدقہ زیادہ دے کہ جو مال خرچ کرتا ھے دنیا کی محبت سے محفوظ رہتا ھے

دوسرا طریقہ آخرت کی محبت دل میں بسا لے کہ جس کے دل میں آخرت کی محبت ہوگی دنیا وہاں سے رخصت ہو جاتی ہے!

مسند احمد کی حدیث پاک ہے
من أحب دنياه أضر بآخرته ومن أحب آخرته أضر بدنياه، فآثروا ما يبقى على ما يفنى
جس نے دنیا سے محبت کی اس اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا تو باقی رہنی والی کو فانی پر ترجیح دو

کشف الخفاء میں سیدنا عیسی علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان منقول ہے
أن الدنيا والآخرة ضَرَّتان مَن أحب إحداهما أبغض الأخرى
دنیا اور آخرت دو سوکنیں (سوتن) ہیں تو جو ایک سے محبت کرے گا دوسری کو ناراض کر دے گا

ثابت ہوا کہ دنیا کو شکست دینا ہے تو آخرت کی محبت دل میں بسا لیں
مذکورہ تینوں دشمنوں کو اپنے پسند کے میدان میں لے جاکر شکست دی جا سکتی ہے
ان تینوں دشمنوں کو شکست مساجد,مدارس,صوفیاء کخانقاہوں میں دی جا سکتی ہے یعنی یہ مومن کے لیئے پسندیدہ میدان جنگ ہیں

طلباء کے لیئے کتب میدانِ جنگ ہیں
مریدین کے لیئے صحبتِ مرشد میدان جنگ ہے
علماء کے لیئے علوم کی نشر و اشاعت میدانِ جنگ ہے
خواتین کے لیئے پردہ میدان جنگ ھے
آپ اپنی حالت کے مطابق میدانِ جنگ اختیار کر سکتے ہیں

ایک بزرگ فرماتے ہیں اگر دنیا سونے کی اور آخرت مٹی کا ڈھیلا ہوتی تب بھی عقلمند آخرت اختیار کرتا
کیونکہ دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے
مگر معاملہ برعکس ہے دنیا مٹی کا ڈھیلا اور آخرت سونے سے قیمتی ہے
تو کوئی احمق ہی ہوگا جو پھر بھی دنیا کو فوقیت دے
فانی باقی کا مقابلہ نہیں کر سکتی!
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top