تاریخِ_اسلامی 72
عالَمِ اسلام کی سب سے بڑی درسگاہ جامع ازھر اصل میں شیعوں کی بنائی ہوئی ہے
جامع ازھر کی تعمیر کا آغاز جمادی الاول 359 ھجری میں ہوا اور تکمیل رمضان 369 ھجری میں ہوئی اور رمضان میں یہاں پہلا جمعہ ادا کیا گیا
یہ وہ وقت تھا جب مصر پر فاطمیوں کی حکومت تھی
فاطمی اسماعیلی شیعوں کی ایک شاخ تھے
اس کو جامع قاھرہ بھی کہا جاتا تھا
اور اس کا نام ازھر بھی شیعوں نے سیدہ فاطمہ زھراء رضی اللہ عنھا کے نام پر رکھا
765 ھجری میں پہلی بار یہاں درس تدریس کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ قاضی علی بن نعمان پہلا مدرس تھا جو شیعہ مذہب کے مطابق درس دیتا تھا
اور پھر 378 ھجری میں جامع ازھر کے لیئے بقیہ دوسرے استاذ چنے گئے جن کو الگ الگ منصب دیکر جامع ازھر کے گرد و جوار میں رہائشی مکان بھی دیئے گئے
سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں مصر سے فاطمی حکومت کا خاتمہ ہوا
سلطان ایوبی نے فاطمی خلافت کا خطبہ بند کر دیا اور مکمل طور پر شیعوں پر پابندی لگا دی
اگر وہ یوں نہ کرتے تو آج مصر بھی ایران کی طرح ہوتا
تو تقریبا ایک سو سال تک جامع ازھر بند رہا
پھر سلطان بیبرس نے دوبارہ جامع ازھر کو کھولنے کا حکم دیا اور اس میں سنی علماء کو فقہ و حدیث پڑھنے پڑھانے کا حکم دیا
اس وقت سے لیکر آج تک جامع ازھر سنیوں کے زیر انتظام ہے
سلطان ایوبی کے فتح کی برکت ہے کہ مصر ایران نہیں بنا
مصر میں صوفیاء کی تاثیر بہت زیادہ ہے
مصر میں اکابر علماء و اولیاء آئے ہیں
مثلا
ذوالنون مصری عبدالوھاب شعرانی علی الخواص العز بن عبدالسلام امام شافعی بھی وہاں رہے عبد العزیز دباغ مصری , علامہ سیوطی رضی اللہ عنھم
جامع ازھر آج تک علوم و فنون کی بارشیں برسا رہا ہے
عالمِ اسلام کی سب سے بڑی درسگاہ والے سنی صوفی ہیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️
