اسلامی_طرزِتربیت 147
سیدی مالک بن دینار بازار سے گزر رہے تھے تین کا پھل دیکھ کر دل کیا کھا لیا جائے مگر پاس پیسے نہیں تھے
دوکاندار کو فرمایا میرے یہ جوتے رکھ لو اور تین کا پھل دے دو
اس نے انکار کر دیا
جب آپ جانے لگے تو لوگوں نے بتایا کہ مشہور ولی مالک بن دینار ہیں
اس دوکاندار نے اپنے غلام کو ایک بھرا ہوا طباق دے کر کہا اگر مالک بن دینار یہ قبول کر لیں تو تم آزاد ہو
غلام تین کا بھرا ہوا طباق لیکر عرض گزار ہوا قبول کریں تاکہ میں آزاد ہو جاؤں
آپ نے فرمایا
أنا لا أبيعُ الدِّينَ بالتّينِ ولا آكلُ التينَ إلى يومِ الدِّين
میں دین تین کے بدلے نہیں بیچتا اور قیامت تک اب میں تین کا پھل نہیں کھاؤں گا
یہی الله والوں کی شان ہوتی ہے
لوگ چار پیسے دیکر علماء سے مرضی کی بات سننا چاہتے ہیں
ائمہ مساجد سے مرضی کا انتظام چاہتے ہیں
یہاں اعلی حضرت کا واقعہ بھی ذکر کرنا مناسب ہے کہ آپ تیلی سے تیل خریدنے گئے تو اس نے غالبا ایک روپے کلو بتایا آپ نے سستا کروانا چاہا تو اس نے انکار کر دیا
پھر کسی نے اسکو بتایا یہ مشہور امام و ولی احمد رضا ہیں تو وہ مفت دینے پر تیار ہوگیا مگر امام اھل سنت نے اسے ° ایک روپے کلو کی بجائے دو روپے ایک کلو کے عطاء فرمائے کہ ہم دین کا پیسہ نہیں کھاتے °
جب دینی مقتداء و رہنماء لوگوں کے مال و دولت پر نظر رکھیں گے تو اعلاء کلمہ حق کا کلمہ نہیں کہ سکتے
کما حقہ امر بالمعروف و النھی عن المنکر نہیں کر سکتے
کسی وزیر و مشیر کی ایک دعوت دل کو مردہ کر دیتی اور اور حق سے اندھا کر دیتی ہے
لہذا دنیا داروں کے دروازوں پر جانا دین کا بہت بڑا نقصان ہے
اب یہ بہانہ کہ دین کی دعوت کے لیئے جاتے ہیں تو غیر مسموع ہے کیونکہ امراء کے گھر جاتے ہو کبھی فقراء کے گھر جانا ہوا آپ کا؟
اگر دین کی دعوت میں امیر و فقیر برابر نہیں تو آپ کا دعویٰ جھوٹا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
