تو موسیٰ نہیں میں فرعون نہیں

طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 80

عباسی خلیفہ ہارون الرشید طواف کر رہے تھے
ایک شخص آیا کہنے لگا
امیر المومنین میں آپ سے سختی سے بات کرنا چاہتا ہوں (امر بالمعروف و النھی عن المنکر کرتے ہوئے)
ہارون الرشید نے کہا یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے
اللہ رب العزت نے تجھ سے بہت زیادہ اچھے (سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون علی نبینا و علیھما الصلوۃ و السلام) کو حکم دیا کہ اس سے نرمی سے بات کریں جو مجھ (ہارون الرشید) سے بہت برا تھا (یعنی فرعون)
فرمایا
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا
تو تم دونوں اس (فرعون) سے نرم بات کرنا
❗البدایہ والنہایہ ❗
یعنی جب اتنے بڑے سرکش و باغی سے دین کی بات نرمی سے کرنے کا حکم ہے تو مجھ جیسے مؤمن پر سختی کیوں؟

اگر آپ اسلام کے خیر خواہ ہیں تو بگڑے ہوئے مسلمان یا بدمذہبی کی طرف مائل ہوتے یا ہو چکے مسلمان کو نرمی سے تبلیغ کریں
آپ کا کام حق بات سامنے والے کے کان تک پہنچانا ہے دل میں پہنچانے کے ذمہ دار نہیں نہ آپ کو اس کا حکم ہے نہ آپ پہنچا سکتے ہیں
ہمارے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی رب العالمین نے حکم دیا
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
اپنے رب کے رستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے سب سے اچھے طریقے پر بحث کرو

مگر یہاں کیا ہوتا ہے
تو میری مان ورنہ نہ رہے گا تو مسلمان
تفہیم شروع کرتے ہی سامنے والے کو بدمذہب گمراہ کہ دیا جائے وہ آپ کی بات سنے گا؟
کہا جاتا ہے
میٹھی زبان والے کا زہر بھی بِک جاتا ہے اور کڑوی زبان والے کا شہد بھی کوئی نہیں خریدتا
اگر دینی ابحاث بھڑاس نکالنے کو کرتے ہیں تو یہ فتنہ اور راہِ جحیم ہے
اگر اعلاءِ کلمہ ِ حق کے لیے کرتے ہیں تو ہمارا کام حق کہنا ہے وہ بھی نرمی سے اور سب سے اچھے طریقے سے و بس!
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top