آپ کون سے قُط٘رُب ہیں

طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 79

°°° حرکت بدلنے سے معنی بدلنا °°°

قُط٘رُب ایک کیڑے کا نام ہے جو کبھی ساکن نہیں ہوتا
اھلِ عرب یہ گمان کرتے تھے کہ قُط٘رُب ایسا کیڑا جو دن بھر چلتا پھرتا ہے لمحہ بھر آرام نہیں کرتا
سیدی عبد اللہ بن مسعود کا فرمان ہے

لاعرفن احدکم جیفۃ لیل قطرب نھار
مَیں تم مِیں سے کسی ایک کو جانتا ہوں جو رات میں مردار اور دن میں قطرب بن جاتا ہے

یعنی سارا دن مال جمع کرنے میں قطرب کیڑے کی طرح مسلسل متحرک رہتا ہے اور رات میں رب العالمین کی عبادت کی بجائے مردار کی طرح سو جاتا ہے
❗النھایۃ فی غریب الحدیث ❗
نحو کے مشہور امام سیبویہ نے اپنے شاگرد محمد بن مستنیر کا نام قُط٘رُب رکھا ہوا تھا
کیونکہ محمد بن مستنیر روز صبح سویرے سیوبیہ کے دروزے پر پہنچ جاتے سیبویہ روز دیکھ دیکھ کر کہنے لگے

ما انت الا قطرب لیل
تم تو رات کے قطرب ہو
یعنی رات بھر نہیں سوتے صبح صبح میرے دروزے پر آجاتے ہو
یوں محمد بن مستنیر کا لقب قطرب پڑ گیا
(لسان العرب)
قطرب کا پہلا استعمال جو عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا وہ مذمت کے معنی میں تھا
دوسرا معنی جو سیبویہ نے نے استعمال کیا وہ مدح ہے
آپ بتائیں آپ دنیاوی قطرب ہیں یا دینی علوم کی طلب میں قطرب ہیں؟
محمد بن مستنیر قطرب نے ایک مختصر سا رسالہ لکھا جسے مثلثات قطرب کہا جاتا ہے
اس میں وہ الفاظ جمع کیئے جن میں ایک حرکت بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے
مثلا غَم٘ر غِم٘ر اور غُم٘ر
غَم٘ر کا معنی مال کثیر ہے
غِم٘ر کا معنی سینہ میں حسد ہے
غُم٘ر نا تجربہ کار انسان ہے
یعنی صرف غین کی حرکت بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے
عربی زبان کا عجیب کمال ہے کہ الفاظ بدلنے سے معنی تو بدلتا ہے حرکات بھی بدل جائیں تو معنی بدل جاتا ہے
اور ایسے کلمات کی سمجھ بوجھ ایک طالبِ علم میں قابلیت پیدا کرتی ہے
اس کی زبان میں مہارت عقل میں میں وسعت پیدا کرتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top