بہادر اور بذدل کی نیند میں فرق

تاریخِ_اسلامی 3

حضرت سیدنا زبیر بن عوام کا فرمان ھے

‏””نـحـنُ أمـةً لا نـمـوتُ إلا قتـلـى “”
“فما لي أرى الفُـرشَ قد كَثُـرَ عليها الأموات”
رضي الله عنه.

ھم ایسی قوم ہیں جو صرف قتل ہوتے ہیں کیسا دور ھے کہ اب کیا ہوگیا ہے میں تم لوگوں کو بستر پر مرتے ہوئے دیکھتا ہوں

جہاد اور اعلاء کلمۃ الحق ہمارے اسلاف کی سب سے بڑی خوبی تھی
میدان جنگ میں شہید ہونا باعث فخر اور گھر بستر پر مرنا بہت بڑا عیب سمجھتے تھے
یہی وجہ ھے کہ حضرت خالد بن ولید نے اس درد کا اظہار اس وقت فرمایا جب آپ بستر پر وفات پانے لگے تھے
حالانکہ آپ نے اتنی جنگیں لڑی تھیں کہ روم و فارس بھی آپ کے نام سے کانپتے تھے
اور آپ کے بدن کا کوئی حصہ زخم سے خالی نہ تھا آپ نے اس وقت کی دو سپر پاورز کو دھول چٹائی مگر پھر وقت آخر فرمانے لگے
میرے بدن کے ہر حصے پر راہ خدا میں جہاد میں لڑائی کے زخم ہیں مگر اب بستر پر میں یوں مر رہا ہوں جیسے ایک اونٹ مرتا ھے
فلا نامت اعین الجبناء
بزدلوں کو کبھی نیند نہ آئے

آپ پیغام دے گئے کہ بہادر دشمنوں کے ہونے کے باجود کھل کے سوتا ھے کیونکہ اس کو ہر وقت موت کا انتظار بلکہ شوق ہوتا ھے
جبکہ بذدل دشمن نہ ہونے پہ بھی رات کو سو نہیں پاتا
کاش یہ حکمرانوں کو سمجھ اجاتا تو امت معزز و فاتح ہوتی
اور جب بھی سمجھ آئے گی امت فاتح بن جائے گی
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top