لطائفِ_علمیہ 144
بڑی خواہشات بڑے گناہ کرواتی ہیں
زندگی کو انجوائے کرنے والا حلال و حرام کی پرواہ کیئے بغیر مال جمع کرتا ہے
لذیذ کھانوں کی طلب لمبے چوڑے گھر کی خواہش نفیس کپڑوں کی تمنائیں اور بہتریں سواری کا شوق لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے پر مجبور کرتے ہیں
آپ غور کریں اگر کسی کی خواہش صرف دو وقت سادہ روٹی کھانے کی ہو تو کیا وہ چوری ڈاکہ رشوت و سود لے گا؟
اگر کسی کی طلب سردی گرمی کے صرف دو سوٹ ہوں تو کیا وہ حقوق العباد پر ڈاکہ مارے گا؟
اگر کسی کا مقصد زندگی گزارنا ہو انجوائے کرنا نہ ہو تو کیا وہ نیند و آرام قربان کر کے کمائی پہ کمائی کرے گا؟
محدود خواہشات رکھیں تاکہ زندگی میں ناحق نہ کرنا پڑے
سیدمہتاب_عالم
