طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 73
آپ کی من پسند ہستی کو ماننا ایمان کا حصہ کب سے ہوگیا ہے ؟
آپ کی پسندیدہ شخصیات کو ناپسند کرنا دینِ اسلام کو ناپسند کرنا نہیں ہے
اسی طرح آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں تو ذاتی مسئلہ ہے اس ذاتی ناپسندیدگی کو دین کی ناپسندیدگی قرار نہ دیں
اور اگر کوئی آپ کی محبوب ہستی کو ناپسند کرتا ہے تو یہ اس سے بغض رکھنے کی غیر شرعی وجہ ہے
خاص طور جب مسئلہ دینی ہو اور سامنے والا سنی ہو تو بالکل اجازت نہیں ہے
اور دینی مسئلہ میں بھی برے کو اُتنا ہی برا کہا جائے جتنا وہ ہے حد سے بڑھنے والوں کو الله رب العزت پسند نہیں فرماتا
اعلی حضرت فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں بدمذہب عالم کو اتنا ہی برا کہا جائے جتنا ہے فحش کلامی سے بچا جائے
قرآن کریم میں واضح حکم ہے
لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ
تمہیں کسی قوم کی عداوت ناحق بات کہنے پر نہ ابھارے
جتنے کا مستحق ہے بس اتنا و بس
علماء کے آپسی اختلاف پر اگر گالیوں کی اجازت ہوتی تو عقائد و کلام کی ہر کتاب تاریخ و سوانح کی ہر کتاب گالیوں سے بھری ہوتی
ماضی قریب میں ایک آنکھوں دیکھا حال گزرا جس کے کئی لوگ شاہد ہیں
مولا ابوداؤد صادق رحمہ اللّٰه ہمارے بڑے عالم تھے
امیر اھلِ سنت سے ٹی وی و دیگر معاملات میں اختلاف کرتے تھے
حتی کہ امیر اھلِ سنت کو بدعتی گمراہ اور نہایت سخت زبان استعمال کرتے تھے
حتی کہ ان کے رد میں مظلوم مبلغ کتاب لکھی گئی اور دو حصے اس کے آئے
مگر آپ کو تعجب کی بات بتاؤں
ہمارے مرشد گرامی کو بدعتی گمراہ جہنمی یہ وہ بہت کچھ کہا ہم نے سنا مگر میں نے کسی ایک دعوتِ اسلامی والے کو آج تک نہیں دیکھا جو ابوداؤد صادق رحمہ اللّٰه کو برا کہتا ہو
سبھی ان سے محبت کرتے تھے اور کرتے ہیں
بلکہ جب ان کا انتقال ہوا تو مدنی مذاکرہ چل رہا تھا امیر اھلِ سنت کو خبر دی گئی تو فوری دعاء کے لیئے ہاتھ اٹھا دیئے
دنیا حیران کہ جس شخصیت نے ان کو گمراہ بدعتی کہا ان سے اتنی محبت ؟
کیوں نہ ہو وہ عالم و علامہ تھے شریعتِ مطہرہ پر پابندی کرنے والے رخصت کی بجائے عزیمت کے شاہسوار ان کا فتویٰ سخت زبانی دین کی حمایت میں تھی
ادھر تربیت دیکھیں کیونکہ وہ بڑے حقیقی عالم تھے عالمِ ربانی تھے اسی وجہ ان کی سخت زبانی عطاری حضرات خندہ پیشانی سے سہتے بلکہ ان سے محبت کرتے رہے
سوال ہے کہ آج کل کے عطاریوں کو کیا ہوگیا ہے؟
جواب ہے اپنے پیر و مرشد کی تعلیمات سے دور ہوگئے ہیں
جب تک عطاری یک در گیر و محکم گیر [ایک دروازہ پکڑو اور مضبوطی سے پکڑو] پر قائم تھے اچھل کود کرنے والے خطیبوں چیخ و پکار کرنے والے مقرروں اور مناظرانہ طبیعت رکھنے والے علماء سے دور تھے تب تک اپنے مرشد کی تعلیمات کے پابند تھے
اب تو بھانت بھانت کے مفکرین ہیں
عطاری حضرات بس اپنے پیر کو نہیں سنتے باقی سب کو سنتے ہیں
اپنی اعلی ترین تنظیم اور اس کے نیکیوں بھرے کام چھوڑ کے کوئی کسی کے کھونٹے سا بندھا ہے تو کوئی کسی زنجیر سے بندھا ہے
بس یہ یہ خرابی ہے
بالفرض آپ کے مرشد یا استاذ کو کوئی برا کہتا ہے تو آپ کا کیا حق ہے اس کا رد کرنے بیٹھ جائیں
اگر زیادہ ہی حاجت ہے ایک بار تنبیہ کر دیں و بس
رد در رد پھر ردِ رد پھر آگے انا کی جنگ شروع ہو جاتی ہے
شیخ اکبر محی الدین ابن العربی فرماتے ہیں
تلمسان شہر میں 560 ھجری میں ایک دن خواب میں میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تم فلاں شخص کو ناپسند کیوں کرتے ہو؟
میں نے عرض کیا حضور وہ شخص شیخ ابو مدین مغربی {اکابر اولیاءِ امت میں سے ہیھں} سے بغض رکھتا ہے اس وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کیا وہ الله رب العزت سے اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا ؟
میں نے عرض کیا حضور وہ بالکل کرتا ہے
فرمایا پھر ابومدین کے بغض کی وجہ سے تو اس سے کیوں بغض رکھتا ہے الله اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے محبت کیوں نہیں کرتا ؟
میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم میں بہک گیا بھٹک گیا میں توبہ کرتا ہوں
اب سے وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے
جب میں بیدار ہوا تو گھر میں جو سب سے قیمتی کپڑا تھا وہ لیا اور اس شخص کے گھر کی طرف چل پڑا وہاں جا کر اسے ساری بات بتائی اور وہ کپڑا تحفے میں دیا
وہ شخص رونے لگا اور اس مبارک خواب کی برکت سے اس کے دل سے شیخ ابو مدین المغربی کا بغض ختم ہو گیا
میں نے اس سے پوچھا آپ شیخ ابو مدین المغربی سے بغض کیوں رکھتے تھے
کہنے لگا قربانی کے دن میں شیخ ابو مدین کے ساتھ تھا ایک جانور کا گوشت آیا تو انہوں نے وہ گوشت صرف اپنے شاگردوں کو دیا مجھے نہیں دیا
بس اس وجہ سے میرے دل میں ان کا بغض پیدا ہوگیا
❗الفتوحات المکیہ جلد 4 صفحہ 499❗
کتنی پیاری بات ہے نا کہ کیا وہ الله و رسول سے محبت نہیں کرتا؟
کیا وہ مؤمن نہیں ہے؟
بس یہ خیال کر کے آپ بھی چپ ہوں جایا کریں
مگر ہمارے ہاں حال بہت برا ہے
بغض و کینے کی وجہ کون مخالف کو عاشقِ رسول مانے؟
کسی کے مرشد و استاذ کو ماننا ایمان کا حصہ نہیں ہے
اور کسی سے ذاتی ناپسندیدگی ہو تو اسے اتنا آگے مت بڑھائیں کہ اس کے دین میں شک کرنے لگ جائیں
اس دور کی بڑی مصیبت سینوں میں ابلتا ہوا کینہ ہے
یہ تکفیر یا کم از کم تضلیل و تفسیق کر کے ہی ٹھنڈا ہوتا ہے
یہی وجہ ہے تکفیر و تفسیق کی بھرمار ہے
دین کو یوں تنگ کر دیا ہے کہ گویا راہِ اعتدال ہے ہی نہیں اور تشدد و تعصب ہی خالص دین ہے
قرآن سے سیکھیں کسی کا ایک مسئلہ غلط ہے تو بس ایک ہی میں اسے غلط کہیں وہ بھی اگر سنی ہے تو اس کے منصب و علم کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی خطاء چھپائیں کہ ہمیں یہی حکم ہے
أقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم إلا الحدود
عزت داروں کی غلطیوں سے در گزر کرو
❗ابو داؤد شریف ❗
علماء کرام سے بڑھ کر کون معزز ہے
اب رہا بدمذہب عالم تو اس کی ذات پر حملہ آور ہوئے بغیر اس کے عقیدے کی برائی و خامی بیان کریں
یہی حسنِ اسلام ہے یہی تعلیمِ قرآن ہے
وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
اور ان سے اچھے طریقے پر بحث کرو
گالی گلوچ, نام بگاڑنا , جگتیں مارنا بازاری زبان استعمال کرنا بھانڈوں کا کام ہے دین داروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے
بد تمیزی و بد تہذیبی کے پروان چڑھنے کی ایک وجہ اکابر علماءِ وقت کا ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی نہ کرنا ہے
اس موضوع پر باقاعدہ محافل بڑے مدارس میں علمی حلقے اور ادبی محافل ہونی چاہیئے کہ یہ پرفتن دور ہے اسلامی اخلاق اور سنی تہذیب عام کی جائے
درس و تدریس سے متعلقہ اساتذہ اپنے اوپر لازم کر لیں کہ طلباء کرام کی روانہ اس لحاظ سے تربیت کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
