طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 72
پھیلتی بد مذھبی میں سب سے بڑا ہاتھ متشدد سنیت کے ٹھیکیداروں کا ہے
امام ابن بطہ مشہور زمانہ کتاب الابانۃ الکبری میں فرماتے ہیں
اعلموا إخواني أني فكرتُ في السَّبب الذي أخرج أقواماً من السُّنة والجماعة واضطرَّهم إلى البدعة والشناعة فوجدتُ ذلك من وجهين
أحدهما البحث والتنقير وكثرة السؤال عمَّا لا يعني ولا يضرُّ
والثاني مُجالسة مَن لا تُؤمن فتنتُه وتفسِدُ القلوبَ صُحبتُه
میرے بھائی میں نے اس بات پر غور و فکر کیا کہ کونسا سبب ہے جس سے لوگ اھلِ سنت سے نکل کر بدعتی ہو جاتے ہیں
تو میں نے دو سبب پائے
پہلا سبب بحث و مباحثہ اور نفرت انگیز فضاء پیدا کرنا اور فضول سوال کرنا جس کا نہ نفع ہے نہ نقصان ہے
دوسرا سبب جن سے فتنہ پھیلنے کا امکان ہے ان کی صحبت اختیار کرنا
صحبت دِلوں کو برباد کر دیتی ہے
❗الإبانة الكبرى ❗
امام ابن بطہ کے بارے امام ذھبی فرماتے ہیں
یہ مستجاب الدعوات تھے یعنی ان کی دعائیں قبول ہوتی تھیں
ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مذاہب کی حقیقت پر مجھ پر مخفی ہو گئی ہے کیا کروں؟
فرمایا ابن بطہ کی صحبت اختیار کرو
وہ دوسرے دن امام ابن بطہ کے پاس ائے تو امام ابن بطہ نے ان کو دور سے دیکھا تو فرمانے لگے
صدق رسول اللہ صدق رسول اللہ
رسول کریم نے سچ فرمایا رسول کریم نے سچ فرمایا
یہ عظیم الشان امام بد مذھبی پھیلنے کا اپنا مشاہدہ بیان کر رہے ہیں کہ اپنوں کی بحث و نفرت کی فضاء دور کر دیتی ہے
ہمارے ہاں تو لفظ ہی بیہودہ استعمال کرتے ہیں فلاں کی چھترول فلاں بھگوڑا فلاں جاہل فلاں یہ وہ
اگر کسی بدمذہب سے بحث ہو
تو اس کے اور ہمارے درمیان جو مسلم شخصیات ہیں ان کی تعظیم و تکریم بیان کریں
مثلاً روافض سے بحث ہو تو بجائے شیخین کی فضیلت بیان کرنے کے اھلِ بیت کے فضائل بیان کریں
پھر کہیں
یوں بیاں کرتے ہیں سنی داستانِ اھلِ بیت
اگر دیابنہ کے ساتھ بحث ہو تو توحید بیان کریں
اور کہیں ہھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اگر وھابیوں سے بحث ہو تو محدثین کی شان بیان کریں
امام اھلِ سنت مجتہد مطلق احمد بن حنبل کے پاس ایک وفد خراسان سے آیا
انہوں نے خلافت کا ذکر شروع کیا امام بیٹھے رہے
شیخین کا ذکر ہوا بیٹھے رہے
عثمان غنی ذوالنورین کا ذکر ہوا بیٹھے رہے
جب مولا علی کا ذکر شروع ہوا تو امام چست ہو کے بیٹھ گئے اور خوب فضائل علی بیان کیئے
لوگوں نے کہا بقیہ تینوں بزرگوں کی بار آپ چپ تھے
علی بار خود فضائل بیان کیئے
فرمانے لگے
خدا کی قسم خلافت نے علی کو زینت نہیں بخشی بلکہ علی نے خلافت کو زینت بخشی ہے
❗المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم لابن الجوزی ❗
ایک رافضی نے یہ قصہ سنا تو کہنے لگا
احمد بن حنبل کا بغض میرے دل سے آدھا کم ہوگیا ہے
اب یہاں کوئی موجودہ سنیت کا ٹھیکیدار ہوتا تو امام احمد بن حنبل کو رافضی کہ دیتا
بلکہ میں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بناء پر سو فیصد یقین سے کہتا ہوں اگر یہ واقعہ بغیر نام لیئے ایسوں کے سامنے بیان کرنے تو رافضیت کا فتویٰ لگا دے گا کہ صدیق و عمر نے خلافت کو زینت نہیں بخشی؟
علی نے بخشی ہے
علی کو افضل کہ دیا شیخین کی فضیلت گھٹا دی وغیرہ وغیرہ
بے جا بحث اور میری مانو کی ضد اور چِڑانے کو اپنا عقیدہ گج وج کے بیان کرنا حماقت بھری سوچ ہے اور اس سے سوائے نقصان کے کبھی کبھی حاصل نہیں ہوا ہے
عمامے کا شملہ سنت ہے
اس کا مذاق اڑانا کفر ہے مگر جہاں اس کا مذاق اڑایا جائے وہاں شملہ ترک کیا جائے تاکہ عوام۔کفر میں نہ پڑے
❗فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 209❗
مزاجِ شریعت قریب کرنا ہے نہ کہ دور کرنا ہے
شریعت ایمان بچاتی ہے حتی کہ سنت ترک کر دی جاتی ہے
جبکہ ہمارے ہاں اپنی ٹانگ اوپر رکھنے کے چکر میں کتنوں کو پہلے مذہب سے دور کر کے بد مذہب پھر دین سے دور کر کے ملحد بنا دیا جاتا ہے
پھر بھولے بھالے بن کر روتے ہیں دل جل رہا ہے دین کا نقصان ہو رہا ہے
پہلی تیلی آپ نے جلائی ہے گلشن میں آگ آپ نے بھڑکائی ہے
اب دردِ دین اٹھ رہا ہے کمال ہے؟
اس کا ایک ہی حل ہے نیت کر لیں کہ سوشل میڈیا پر مذہبی بحث نہیں کریں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
