ایسی فضیلت جو شاید ہی کسی کو ملی ہو

عشقِ_سیدِ_عالم 35

امام اجل امام المحدثین یحیی بن معین کی مبارک عادت تھی
° جب حج کرنے جاتے تو پہلے مدینہ پاک جاتے پھر آگے مکہ مکرمہ جاتے اور واپسی پر بھی مدینہ پاک سے ہو کر آتے تھے °
آخری حج کے موقع پر مدینہ پاک میں تین دن قیام فرمایا صبح وہاں سے روانہ ہوگئے
مدینہ پاک سے کچھ باہر آکر ایک جگہ پر رات گزاری تو ایک غیبی آواز سنی
اترغب عن جواری
کیا تم میرے پڑوس کو چھوڑنا چاہتے ہو؟
بس پھر کیا تھا صبح کو قافلے والوں کو کہا تم جاؤ میں تو واپس مدینہ پاک جارہا ہوں
یحیی بن معین واپس مدینہ پاک آگئے اور تین دن بیمار رہ کر وصال فرما گئے
پھر ان کو وہ عظیم فضیلت ملی جو شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو
وہ یہ کہ جس تختے پر جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری غسل دیا گیا یحیی بن معین کو بھی اسی تختے پر غسل دیا گیا
(تھذیب الکمال)

اللہ اللہ کیسی عظیم برکت و فضیلت والی بات ہے
اور پھر جنازے میں ایک شخص آگے بڑھ کے بلند آواز ست کہنے لگا کہ یہ وہ شخص ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب جھوٹی باتوں کو دور کرتا تھا
دفاعِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر یہ ملا کہ اپنے دیوانے کو خود روکا کہ کہاں جاتے ہو؟
یہیں رکو
تمہاری موت ہمارے قدموں میں ہوگی اور تم ہمارے قدموں میں قیامت تک رہو گے اور ہمارے قدموں سے ہی حشر ہوگا
مزید یہ کہ تمہیں وہ فضیلت دیں گے
کہ دنیا یاد رکھے گی
مزید معلوم ہوا کہ اسلاف کا طریقہِ محبت ہے کہ کعبہ شریف کا طواف بعد میں پہلے کعبے کے کعبہ کا دیدار کیا جائے اور بعدِ طوافِ کعبہ بھی روضہ پاک کی زیارت کی جائے

امام نے فرمایا
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
اُس در سے علم و فضل, ادب و ثقافت , عزت و منصب جنت و رحمت خدا ملتی ہے
“دنیا کی پریشانی سے نجات چاہتے ہیں تو اُن صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کریں اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کی تاثیر ہے بڑے بڑے غم بھی بے کار ہو کے رہ جاتے ہیں”
اللہ رب العزت ہم سے بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت اور اس پاک ذات صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے دفاع کا کام لے


سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top