اولیاء کرام کی ایک خاص قسم

عقائدِ_اھلِ_سنت 4

••• راستہ بھول جائیں تو کیا کریں •••

امام اھل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
میں نے پانچ حج کیئے دو سوار ہوکر اور تین پیدل یا تین پیدل اور دو سوار ہوکر
ایک بار میں پیدل حج کر رہا تھا تو راستہ بھول گیا تو میں نے کہا
یا عباد اللہ دلونا علی الطریق
(اے اللہ کے بندوں مجھے راستہ دکھاؤ )

میں یہ کلمات بار بار کہتا رہا یہاں تک کہ مجھے راستہ مل گیا
{مسائل الامام احمد }

معجم کبیر میں امام طبرانی نے حدیث پاک نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جب تم میں سے کوئی ایک کسی شے کو گم کر دے یا کسی قسم کی مدد چاہے اور وہ ایسی زمین میں ہو جہاں اس کا کوئی جان پہچان والا نہ ہو تو یوں کہے
یا عباد اللہ اعینونی یا عباد اللہ اعینونی
اے اللہ کے بندو میری مدد کرو اے اللہ کے بندو میری مدد کرو

بے شک اللہ کی کچھ ایسے بندے ہیں جن کو تم نہیں دیکھتے
(یعنی وہ تمہاری مدد کریں گے)

علماء کرام فرماتے ہیں اولیاء کرام کی ایک قسم رجال الغیب کہلاتی ہے
وہ جنگلوں صحراؤں میں چھپ کر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں جب بندہ صدا لگاتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتے ہیں
یہ اولیاء کرام پل میں موجود پل میں غائب ہو جاتے ہیں
(اسی لیئے ان کو رجال الغیب چھپے ہوئے آدمی کہا جاتا ہے)
معجم کبیر کے آخری الفاظ یوں ہیں کہ
وقد جرب ذلک
یعنی اس حدیث پاک کا بار ہا تجربہ کیا گیا ہے

جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے اپنا واقعہ سنایا
اللہ والوں سے مدد طلب کرنے کا حکم حدیث پاک میں ہے اس پر عمل محدثین نے کیا ہے اور ھم محدثین کی اتباع میں یہ عمل کرتے ہیں
اللہ کا شکر ہے ھم اسلاف کے ماننے والے سلفی ہیں
کبھی ہم اولیائے کرام کو دور سے پکارتے ہیں کبھی اُن کے پاس حاضر ہو کر دعاء کے لیئے عرض کرتے ہیں
ہمارا ہر طریقہ سنت سے ثابت ہے اسی وجہ سے ہم اھلِ سنت ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top