تصوف_وصوفیاء 66
شیخ فرید الباجی نے خواب میں اپنے مرشد عبد الھادی الخَر٘سہ کی خواب میں زیارت کی اور عرض کیا
الله رب العزت تک پہنچنے کا طریقہ کیا ہے؟
شیخ عبد الھادی الخَر٘سہ نے جواب میں فرمایا
الله رب العالمین تک پہنچنے کا راستہ اعرابی حرکات کے اعتبار سے ہے
شیخ فرید الباجی نے یہ خواب شیخ عبد الھادی الخَر٘سہ کو جا کر بیان کیا
تو شیخ نے فرمایا
اعرابی حرکات چار ہیں
کسرہ فتحہ ضمہ اور سکون
صوفیاء کرام کے نذدیک ان میں سب سے قوی حرکت کسرہ ہے
کسرہ کا معنی ٹوٹنا ہے
کیونکہ جب بندہ اپنی انا و تکبر سے ٹوٹ کر عاجزی و انکساری کرتا ہے تو اللہ رب العزت اسے بلند فرما دیتا ہے
اس کے بعد رتبہ حرکتِ ضمہ کا ہے کہ جو بندہ انکساری کرتا ہے اسے صالحین کے ساتھ ضم یعنی ملا دیا جاتا ہے
اور جب بندہ صالحین کے ساتھ مل جاتا ہے تو اس پر فتح کے دروازے کھل جاتے ہیں
فتح یعنی اسرار کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں
اور جب اسرار کے دروازے کھلتے ہیں بندہ سکون میں آ جاتا ہے
جو کہ اعرابی حرکات میں سے چوتھے نمبر پر ہے
اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں کسرِ قلب سے آؤ وہ تمہیں صالحین کے ساتھ مضموم کر کے تم پر فتح کے دروازے کھول دے گا تو تمہارا دل سکون پا جائے گا
اللہ والوں کی بارگاہ میں بیٹھا کریں وہ نفوس قدسیہ جب لہر میں ہوتے ہیں تو صرف و نحو بلکہ منطق جیسے خشک و بے کار فن کے ذریعہ تم پر عنایت کر کے مقامِ ولایت پر مقرر فرما دیتے ہیں
میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمہ اللہ نے نحو کی مشہور کتاب کافیہ کی صوفیانہ شرح لکھی ہے
یہ اللہ والے ہیں یہ اھلُ اللہ ہیں
الله الله کیئے جانے سے اللَّه نہ ملے
الله والے ہیں جو الله ملا دیتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
