اولاد کے لیئے کتاب یا کتاب ہی اولاد

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 130« »

نحو کی مشہور کتاب آجرومیہ ابن آجروم نے اپنے بیٹے کے لیئے لکھی
نحو کی مشہور کتاب ملا جامی علامہ جامی نے اپنے بیٹے یوسف کے لیئے لکھی
ان کے اخلاص کی وجہ سے صدیوں سے یہ کتب ہر خاص عام کے مطالعہ میں رہتی ہیں اور ہر درس میں پڑھائی جاتی ہیں
علامہ سعد الدین تفتازانی سے کون واقف نہیں اِن کی چھ کتابیں درسِ نظامی میں صدیوں سے پڑھائی جاتی ہیں حالانکہ علامہ سعد سے بڑے علماء بھی گزرے ہیں مگر جو قبولیت علامہ سعد کو نصیب ہوئی اس لحاظ سے کسی کو نہیں ہوئی
اخلاص پھر لکھ کر سپردِ خدا کر دینا شانِ اخلاص ہے

امام ابن الجوزی نے فرمایا

تصنيف العالم ولده المخلد
عالِم کی کتاب اس کا ہمیشہ رہنے والا بیٹا ہے
❗ صید الخاطر ❗
اخلاص سے لکھیں پھر بھی عوام میں مشہور ہونے کی امید نہ کریں کیونکہ عند اللہ قبولیت کا مطلب عند الناس مقبولیت نہیں ہوتی
آج کل طلباء کچھ پڑھ کر لکھنے کی کوشش میں ہوتے ہیں
ہر ایک مصنف و محرر بننے کے چکر میں ہے
مجھے تعجب ہوتا ہے ہر ایک کا اصلاحی گروپ ہے ہر ایک لکھتا ہے ہزاروں فالورز ہیں پھر بھی معاشرے میں دینداری کیوں نہیں ؟

پھر دیکھیں جو کتابیں اپنی اولاد کے لیئے لکھی گئیں وہ اب تک نصاب میں شامل ہیں کیونکہ انسان اولاد سے بڑھ کر کسی کے لیئے مخلص نہیں ہوتا اسی لیئے اولاد کے لیئے کیا گیا ہر کام مکمل مہارت و دل سے کیا جاتا ہے
اولاد علمِ دین والی ہو یا دینی کتاب ہو آپ کے لیئے صدقہ جاریہ ہے
مثنوی شریف کے بارے آتا ہے کہ مولانا روم نے لکھ کر پانی میں پھینک دی کہ اگر اخلاص سے لکھی گئی ہے تو بچ جائے گی ورنہ ضائع ہو جائے اور وہ کتاب آج تک فیض لٹا رہی ہے
جب امت کے افراد کو اپنی اولاد سمجھ کر لکھا جاتا ہے تو دل میں اترتا ہے اور قبولیت نصیب ہوتی ہے
اولاد کے لیئے کتاب لکھیں یا کتاب اولاد بنائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top