علوم و فنون کے سمندروں سے دوری کیوں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 129

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں

متابعة الكتاب منقذة من العذاب وتعظيم الحرمات مخرج من الظُّلمات ورعاية الْأَدَب رفْعَة فِي الرتب لَوْلَا الْعلم لَكَانَ الْإِنْسَان بَهِيمَة
قران کریم کی متابعت عذاب سے بچاتی ہے اور معزز اشیاء کی تعظیم اندھیروں سے نکالتی ہے
ادب کا لحاظ کرنا مقام بلند کرتا ہے اور اگر علم نہ ہوتا تو انسان جانور ہوتا
❗ التذكرة فى الوعظ لابن الجوزي ❗
علوم کا سر چشمہ قرآن کریم ہے
مگر حیرت بالائے حیرت تو یہ ہے کہ طلباء قرآن پڑھنے سے ہی دور ہیں
مبالغتاً عرض کروں تو فقہی و حدیثی و کلامی تحقیق کرنے والے علماء اور تحقیق سیکھتے طلباء سب سے کم جس کتاب کو پڑھتے ہیں وہ قرآن کریم ہی ہے

اصلِ علم قران ہے
پھر بھی ترجیحی بنیاد پہ پڑھا نہیں جاتا
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں سب سے بڑا عالم وہ ہوتا جو زیادہ قران پڑھا ہوا ہوتا تھا
ہم کتنا پڑھتے ہیں ہر ایک غور کرے
قران کریم نہ پڑھنے کی بے برکتی ہے کہ ہمارا ذہن ویسے نہیں کھلتا جسیے اکابر علماء کرام کا ذہن تازہ ہوتا تھا
ہر حرف کے نیچے علوم کے سمندر ہیں مگر ہم ادھر توجہ نہیں کرتے
اولیاء کرام کثرت سے قرآن کریم پڑھتے تھے اسی وجہ سے غیوب پر مطلع ہوتے تھے کیونکہ قرآن کریم میں اولین و آخرین کے علوم ہیں

مینہ ہو یا طوفان ذہن بنائیں کہ روز قرآن پڑھنا ہے اسی بابرکت کتاب کے صدقے علوم و فنون میں مہارتیں ملیں گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top