اناؤں کی قربانی

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 78

مارايتُ بخيلاً يمنح حباً فالحُبّ دائمـاً ينبت من أكف الكُرمـاء
میں نے کسی بخیل (کنجوس) کو محبت کی اجازت دیتے نہیں دیکھا
محبت ہمیشہ سخی لوگوں کی ہتھیلیوں پر اُگتی ہے

❗التبریزی ❗

کیونکہ محبت میں تن,من,دھن نثار کیا جاتا ہے جو کہ کنجوس شخص کی طبیعت کے خلاف ہے
اور دعویٰ محبت کے بعد میں, میرا, میری, مجھے وغیرہ کے الفاظ نہیں بولے جاتے
تو, تیرا, تیری, تجھے مدِ نظر رہتے ہیں
سجدہ اسی انتہائے محبت کا نام ہے جس میں اپنی ذات فناء کر دی جاتی ہے
جس انا کو بچانے کے لیئے انسان جنگیں کرتا ہے وہی انا سجدے کی صورت میں رب العالمین کی بارگاہ میں مٹا دی جاتی ہیں اور کہتا ہے کہ ایسی سو جانیں ہوں سو انائیں ہوں اے میرے محبوب تجھ پر قربان
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top