امت کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا

قابلِ_تقلیدخواتین 4

••• مسلمان خواتین کی خوبیاں •••

لیبیا کے عظیم مجاہد عمر مختار رحمة الله علیه جب اپنے خیمے میں داخل ہوتے تو ان کی بیوی خیمے کا پردہ اوپر کی طرف کھینچ دیتی تھیں

بار بار یہ عمل دیکھ کر کسی نے سبب پوچھا
کہنے لگیں کہ میں گوارا نہیں کرتی خیمے میں داخل ہونگے وقت میرے سر کا تاج اپنا سر جھکا کر داخل ہو

ایسی بیوی ہوتی ہے جو مرد کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے
جو کسی حال میں مرد کا سر نہ جھکائے نہ جھکنے دے
پیٹھ پیچھے گھر کی عزت کی محافظ اور شوہر سامنے ہو تو اس کی قدر و منزلت کا لحاظ کرے
اپنے مائیکے میں شوہر کی برائی کرنے والی عورت اچھی نسل کی بنیاد نہیں رکھ سکتی
مہشور تابعی سعید بن مسیب کی بیوی فرماتی
ہیں
ہم اپنے شوہروں کے سامنے یوں حاضر ہوا کرتی تھیں جیسے تم لوگ بادشاہ کے سامنے حاضر ہوتے ہو

یعنی انتہائی ادب و احترام سے غلامانہ ہاتھ باندھ کر شوہر کے پاس جانا ہوتا

کیونکہ کامل ایمان والی شوہر کے حقوق جاننے والی بیوی بخوبی جانتی ہے کہ اللہ رب العزت نے شوہر کو اس کا حاکم بنایا ہے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
الرجال قوامون علی النساء
مرد عورتوں پر حاکم ہیں

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے
عورت مرد کا قبلہ ہوگی عورت مرد پر حاکم ہوگی

حدیث پاک میں ہے
اس قوم میں بھلائی نہیں جس میں عورت کو حاکم بنایا جائے
جس گھر میں عورت کی چلتی ہو وہ نحوست بھرا گھر ہوتا ہے
جہاں عورتیں فیصلے کرتی ہوں وہاں کبھی رشتہ نہ کریں
یقین کریں آج بھی کروروں مسلمان عورتیں ایسی ہیں جو مرد پر حاکم رہنا پسند ہی نہیں کرتیں
بلکہ محکوم رہنے میں اپنی عزت و جان کا تحفظ محسوس کرتی ہیں
مزاجِ انسان سے واقف اور نفسیاتِ خواتین کا ماہر جانتا ہے عورت اس مرد کو پسند کرتی ہے جس میں حاکمیت ہوتی ہے
عورت کی طبیعت میں محکوم رہنا ہے
ٹی وی پر سوشل میڈیا پر چند طوائفات اگر کارڑد و بینر اٹھا کر نعرے لگاتی ہیں تو یہ ان کا غیر اسلامی غیر انسانی انداز ہے

ان کے نعروں سے مرد کی حاکمیت ختم نہیں ہوتی اور نہ یہ چند فاحشات ایمان والی خواتین کی نمائندہ ہیں

لہذا ان سے دھوکہ نہ کھائیں

خاص طور پر مسلمان خواتین و بچیاں ان کے مکر و فریب سے بچیں

ایمان سب سے مقدم ہے قرآنی احکام سب سے بڑھ کر ہیں
ہاں عمل میں کمزوری ہو تو یہ الگ بات ہے

اگر کوئی مسلمان خاتون مرد کی دو تین یا چار شادیوں کی مخالف ہے تو وہ اسلام سے خارج ہے

ہاں اگر غیرت کی بناء پر شادی سے منع کرتی ہے تو کچھ مضائقہ نہیں ہے

اور اگر مرد کی دو چار شادیوں کو ظلم و ستم سے تعبیر کرتے اور خواتین کے حقوق پر ڈاکہ کہے تو وہ ایمان سے نکل گئی

اللہ رب العزت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اس نے حکمتِ خدا کی نفی اور حکمِ خدا پر اعتراض کیا ہے جو کہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے

حدیث پاک میں یہ امت اسی چیز سے ٹھیک ہوگی جس چیز سے امت کا پہلا حصہ یعنی صحابہ ٹھیک ہوئے

یعنی صحابہ کرام و صحابیات رضی اللہ عنھم کے نقوش قدم پر چلنا ہی امت کو ٹھیک کرے گا
تو جیسا مزاج صحابیات کا تھا اس جیسا مزاج جب تک آج کل کی خواتین کا نہیں ہوگا امت کا نظام درست نہیں ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top