امام محمد نے امام ابو یوسف کی کنیت ذکر کیوں نہ کیا

فقہِ_رضا 3

فتاوی رضویہ جلد 13 صفحہ 655 پر امام اھلِ سنت سے سوال ہوا کہ
ایک شخص درود شریف یوں پڑھتا ھے
اللھم صل و سلم علی محمد وسیدنا و ھادیا و مرشدنا و مخدومنا آگے نام اپنے پیر کا لیتا ھے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پاک پر نہ سیدنا و ھادینا ہے اور اپنے پیر کے نام پر القاب تعظیمی لگاتا ھے پس ایسا درود پڑھنا جائز ھے؟
جواب میں امام نے فرمایا
یہ بیجا ہے اور ایک نوعِ ظلم ھے اس سے احتراز چاہیئے
ادب تو یہ ہے کہ اکابر کے نام کیساتھ اُن کے اصاغر کا نام لیا جائے
یعنی بڑوں کا نام لو تو چھوٹوں کا بھی صرف نام ذکر کرو کوئی تعظیمی لقب بلکہ کنیت بھی ذکر نہ کرو
مزید فرمایا
عرب میں کنیت تعظیم ھے امام ابو یوسف امام محمد کے استاذ ہیں مگر امام اعظم کے شاگرد ہیں امام محمد نے جامع صغیر وغیرہ جتنی کتابیں بروایت ابی یوسف امام اعظم سے روایت کیں ان میں امام ابو یوسف کو کنیت سے یاد نہ کیا بلکہ نام محمد عن یعقوب عن ابی حنیفہ رضی اللہ عنھم ذکر کیا.
اس کی وجہ علماء نے یہی نقل کی کہ اکابر کے وقتِ ذکر اصاغر کا نام ذکر کیا بس
مزید فرمایا کہ
اس شخص پر اس طرح درود پڑھنے سے احتراز لازم اور پیر پر واجب ہے کہ اسے ہدایت کرے
یہاں تک امام اھل سنت نے ایسے شخص کو مسلمان ہی رکھا
مزید فرمایا کہ اگر یہ مطلب ہو کہ پیر کی عظمت حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہے تو صریح کفر ہے!
ایک مختصر فتوے میں کئی فوائد ذکر کر دیئے
(1) باجود کمالِ حبِ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور تعظیمِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے پاس شرع رکھا اور مسلمان کے فعل کو نوعِ ظلم فرما کر تکفیر سے قلم روکا
(2) نفیس قاعدہ بیان کیا کہ اکابر کی موجودگی میں اصاغر کو قولا فعلا ترجیح مناسب نہیں
(3) فقہی اشکال دور کر دیا کہ گوکہ کہ ادبی اشکال تھا کہ امام محمد ابو یوسف کیوں نہیں کہتے
(4) خیر خواہی مسلم کہ آئندہ اس طرح درود نہ پڑھے
(5) علم کلام کا مسئلہ اشارتاً بیان کر دیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر نبی کو افضل ماننے والا بالجماع دائرہ اسلام سے نکل جاتا ھے!
امام اھل سنت کے قلم کو رب العالمین نے خصوصی مہارت عطاء فرمائی تھی
ایسے فوائد آپ کو کہیں نہیں ملیں جیسے امام اھل سنت کے فتاوی رضویہ میں موجود ہیں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top