اصلاح کا جذبہ ہو فتنہ و شر کا مادہ نہ ہو

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 97

اس دور میں حصولِ علم کے ذرائع پچھلے زمانے کی نسبت زیادہ آسان ہونے اور بظاہر علم زیادہ ہونے کے باوجود فتنہ و شر کی کثرت کیوں ہے؟
کیونکہ اِس دور میں علمِ کا حصول غالب طور پر رد و تنقید کے لیئے ہوتا ہے اصلاح کے لیئے نہیں ہوتا

مثلاً ایک صاحب کو مواد درکار تھا کہ پچھلے زمانے کے صوفیاء کرام کے کاروبار کیا تھے؟
لوگوں نے موضوع بہت پسند کیا
مگر اکثریت نے واہ واہ اس بناء پر کی کہ آج کل کے پیروں کا رد ہوگا مزہ آئے گا
ایک موضوع تھا
سابقہ مشائخ کے حصولِ علم کے اسفار
موضوع بڑا دلچسپ تھا کہ صوفیاء کرام نے کتنے سفر کیے اور آج کے جاہل صوفی کہاں کھڑے ہیں
لوگوں نے واہ واہ کی
صرف اس بناء پر کہ موجودہ دور کے مشائخ کو جہالت کا طعنہ دیں گے
طلباء ورق گردانی کرتے ہیں تو کسی کا منہ بند کرنے کو
علماء راتوں کو جاگ کر دن بناتے ہیں تو مناظرہ جیتنے کو اور رد کرنے کو
علماء کے باہم رابطے اور ایک دوسرے کی طرف سفر ہوتے ہیں تو مخالف کا رد کرنے اور اسے نیچا دکھانے کو
بس رد رد اور رد
نیچا دکھانا مخالف کے علم میں طعنہ زنی کرنا مقصد بن کے رہ گیا ہے
اصلاح کہاں ہے؟
طلباء کا حال تو یہ ہے کسی عالم کو پسند کیا جاتا ہے اندازِ بیاں پر
کسی کو اس بناء پر کہ ان کے شاگرد کثیر ان کی محافل میں جمِ غفیر ہوتا ہے
فیس بک اور یوٹیوب پر ان کی ویور شپ بہت زیادہ ہے
تو جب کسی عالم کی وجہَ اقتداء یہ ہو تو طلباء میں اصلاح کا جذبہ نہیں فتنہ و شر کا مادہ پیدا ہوگا اور بڑھے گا
خالص و نافع علم سیکھنا ہے تو سوشل میڈیا سے دور رہیں

اور رد کا ذہن ختم کریں

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top