تاریخِ_اسلامی 46
علامہ مقریزی نے اس مسجد کے بارے فرمایا
یہ مسجد اپنی عمارت کے لحاظ سے شاندار , ستونوں کے اعتبار سے عظمت والی ہے, اس مسجد کو اپنے زمانے کے بادشاہوں کے سردار نے تعمیر کیا تھا
اس مسجد کو دیکھنے والا ملکہ بلقیس کے تخت کو حقیر محسوس کرے گا اور کسری کے محل کو کمتر جانے گا
امام سخاوی نے فرمایا
اسلام میں اس مسجد سے زیادہ کوئی دوسری مسجد خوبصورت نہیں تعمیر کی گئی سوائے جامع مسجد اموی کے
عظیم سلطان سلیم اول نے اس مسجد کے بارے کہا کہ واقعی یہ بادشاہوں کی مسجد ہے
اس مسجد کا نام جامع السلطان السجین ہے
(یعنی وہ مسجد جہاں سلطان قیدی بنا رہا)
اس کو جامع سلطان بھی کہتے ہیں
یہ مصر ہے شہر قاہرہ میں موجود ہے
مملوکی سلطان مؤید نے 823 ھجری میں اس کو تعمیر کروایا تھا
یہاں پر ایک قید خانہ تھا سلطان مؤید کو سلطان بننے سے پہلے یہاں پر قید کیا گیا
••• ایک رات سلطان کو مچھروں اور پسوؤں نے سونے نہ دیا تو سلطان نے منت مانی کہ اگر میں مصر کا سلطان بنا تو اسی قید خانے کو مسجد اور علم دین سیکھنے کے لیئے جامعہ بناؤں گا •••
کچھ عرصے بعد وہ مصر کا سلطان بنا اور پھر اپنی منت پوری کی اور تاریخ کی عظیم الشان مسجد تعمیر کروائی!
تزیین و آرائش ایسی کی کہ ویسی مسجد دنیا میں نہیں تھی!
وہ سلاطین کتنے ہی اچھے تھے جو جنہوں نے مساجد و مدارس کا نظام قائم کیا تھا!
یورپ کی عمارتوں کی سیر کرنے والے اگر اسلامی ممالک کی نقش نگاری ملاحظہ کریں تو افسوس کریں کہ پہلے کیوں نہ یہاں آئے
مصر, شام,ایران,عراق, الجزائر, ترکمانستان, آذربایجان وغیرہ ایسے ممالک ہیں جہاں اسلامی عمارات سونے کی طرح چمک رہی ہیں!
جہاں اسلامی تاریخ کا سنہرا دور آپ کی راہ تک رہا ھے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
