عجائباتِ_عالم 53
°°° ایک انسان کی حفاظت کتنے فرشتے کرتے ہیں °°°
اس بیماری کا سنتے ہی روح پر خوفناک اثر ہوتا ھے
کیا آنکھ میں کیڑے نکل سکتے ہیں؟
اس بیماری کی نوعیت کیا ہے؟
اور اس کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟
بہت سے اہم سوالات ہیں
اس بیماری کو Loaiasis یا افریقی آئی ورم کہا جاتا ہے
یہ ایک طفیلی بیماری ہے جو Loa loa نامی طفیلی کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے
اس بیماری کا انفیکشن مغربی اور وسطی افریقہ میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے
دس ممالک میں انفیکشن کی شرح زیادہ ہے
(40% سے زیادہ اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کو ماضی میں آنکھوں کے کیڑے ہو چکے ہیں)
اس بیماری کی کوئی خاص علامت نہیں ہے
کیڑے عام طور پر انفیکشن کے مہینوں بعد تک ظاہر نہیں ہوتے
مریض بغیر درد کی خارش اور سوجن کا شکار ہو سکتا ہے
سوجن کبھی ظاہر اور غائب ہو جاتی ہے اور سوجن جسم پر کہیں بھی ظاہر ہو سکتی ہے اکثر جوڑوں کے قریب ظاہر ہوتی ہے
ایک کیڑا آنکھ کی سطح پر حرکت کرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے اور یہ آنکھ میں خارش و درد اور روشنی کی چبھن کا سبب بنتا ہے
بعض اوقات بالغ کیڑے جلد کے نیچے حرکت کرتے ہوئے واضح محسوس کیئے جاتے ہیں
اس بیماری کی عام علامات میں سے
پورے جسم پر خارش ،پٹھوں میں درد، جوڑوں کا درد، اور تھکاوٹ ہوتی ہے
انفیکشن کیسے ہوتا ہے؟
یہ مرض deerfly نامی مکھی کاٹنے سے پیدا ہوتا ھے
مسافروں کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اگر وہ کئی مہینوں تک ان علاقوں میں رہیں جہاں یہ مکھیاں موجود ہیں
لیکن بعض اوقات وہ 30 دن سے کم رہنے کے باوجود بھی متاثر ہو جاتے ہیں
سب سے اھم سوال
کیا انفیکشن ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے؟
اس کا جواب ہے لوئسس والے لوگ انفیکشن کو دوسرے لوگوں تک نہیں پہنچا سکتے
اس مرض کی تشخیص خون ٹیسٹ سے ہوتی ہے یعنی خون میں واضح کیڑے کے جراثیم موجود ہوتے ہیں
اور دوسرا طریقہ آنکھ میں واضح کیڑا نظر آتا ھے
اس کے علاج کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپریشن کے ذریعہ آنکھ سے کیڑے نکال دیئے جاتے ہیں
یا جلد کے جس حصے پر کیڑے ہوں آپریشن کر کے نکال لیا جاتا ھے
اسی طرح مخصوص میڈیسن سے بھی علاج کیا جاتا ھے
اللہ اللہ
انسان صحت مند تندرست ہو تو رب العالمین کو بھول جاتا ھے
انسان بھول جاتا ھے کہ اگر اللہ رب العزت کی رحمت نہ ہو تو ایک لمحے میں انسان چیر پھاڑ دیا جائے اور تباہ کر دیا جائے
اللہ رب العزت نے سورہ رعد میں ارشاد فرمایا
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے اور پیچھے کہ بحکمِ خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں
اگر یہ فرشتے نہ ہوں تو انسان بلاؤں کے حملے سے برباد ہو جائے
تفسیر ابن کثیر میں ہے
چار فرشتے رات میں چار دن میں انسان کی حفاظت کرتے ہیں
دو دو دائیں بائیں اور دو آگے پیچھے ہوتے ہیں
جب اللہ رب العزت بندے کو کسی بلاء و مصیبت میں مبتلاء کرنا چاہتا ہے تو یہ چار فرشتے ہٹا دیئے جاتے ہیں
تفسیر قرطبی میں ہے
فرشتے انسان کو درندوں زہریلے جانوروں اور مضر اشیاء سے بچاتے ہیں
تفسیر طبری میں
ایک شخص نے مولا عرض کی بارگاہ میں عرض کیا کہ لوگ آپ کو شہید کرنا چاہتے ہیں آپ اپنی حفاظت کریں
فرمایا
دو فرشتے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں تو جب لکھا ہوا غالب آنا ہوتا ھے وہ بیچ سے ہٹ جاتے ہیں اور موت تو خود مضبوط قلعہ ہے یعنی موت انسان کی حفاظت کرتی ہے جب تک وقت نہ آئے انسان نہیں مر سکتا
تفسیر قرطبی میں سیدی کعب الاحبار کا فرمان منقول ہے
لولا أن الله وكل بكم ملائكة يذبون عنكم في مطعمكم ومشربكم وعوراتكم لتخطفتكم الجن
اگر اللہ رب العزت نے تم پر تمہاری حفاظت کے لیئے فرشتے مقرر نہ کیئے ہوتے جو تمہارے کھانے پینے اور پردے میں تمہاری حفاظت کرتے تو جنات تمہیں اٹھا کر لے جاتے
بعض روایات میں ہے
ایک آدمی پر بیس فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں
جن میں سے ایک منہ پر مقرر ہے جو سانپ کو منہ میں داخل ہونے سے روکتا ھے
دو فرشتے آنکھ پر مقرر ہیں
بعض روایات میں ایک انسان پر تین سو ساٹھ فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں
یہ شاید اس لیئے کہ انسان کے اعضاء تین سو ساٹھ ہیں اور ہر عضو کی حفاظت الگ الگ فرشتہ کرتا ہے!
مگر جب نصیب کا لکھا غالب آنا ہو تو محافظ فرشتے ہٹ جاتے ہیں اور بندے پر مصیبت نازل ہوجاتی ہے!
بعض لوگوں کے کان میں کیڑا داخل ہوجاتا ھے
بعض کے دماغ میں کیڑا پہنچ جاتا ھے
کچھ کے پیٹ میں کیڑے پہنچ جاتے ہیں
یہ ان کی بات ہے جو باہر سے انسان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور یہ تب ہوتا ھے جب حفاظت کرنے والے فرشتے بیچ سے ہٹ جاتے ہیں
اور بعض کی آنکھوں میں کیڑا پہنچ جاتا ھے جیسا کہ اوپر بیان کیا ھے
بعض پر جنات کا حملہ ہو جاتا ھے یہ تب ہوتا ھے جب محافظ فرشتے ہٹ جاتے ہیں
نظرِ بد بھی جنات کا اثر ہوتا ھے یہ بھی تب موثر جب بیچ سے محافظ فرشتے ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ کعب الاحبار کا فرمان اوپر گزرا
الغرض انسان مومن ہو یا کافر ہو الله رب العزت کا عظیم نظام اسکی حفاظت کرتا ھے
فرشتوں کی ایک فوج صرف ایک انسان کی حفاظت کرتی ہے
حضرت انسان اللہ رب العزت کی عظیم مخلوق ہے اسی لیئے ایسا پروٹوکول دیا جاتا ھے
مگر جب انسان ہی ناپاکی میں رہے,
بے نمازی ہو,
گناہ گار ہو,
تو فرشتے بامر الہی حفاظت سے ہٹ جاتے ہیں تو ایسے انسان پر جادو جنات کا جلد اور زیادہ اثر ہوتا ھے
عجائباتِ عالم میں سے عجوبہ ھے کہ ایک عام انسان کی حفاظت میں معصوم فرشتوں کی فوج مقرر ہے اور عام انسان ناشکرا ھے
اللہ رب العزت ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنائے
سیدمہتاب_عالم

