آنکھ اور کان کا استعمال اس لیئے کریں جس کے لیئے وہ بنائے گئے

اسلامی_طرزِتربیت 101

سیدی عبد اللہ بن مسعود کا فرمان ہے
لا تعجلوا بمدح الناس ولا بذمهم؛ فلعلّ ما يسرُّكم منهم اليوم يَسُوءُكم غدًا

لوگوں کی تعریف اور مذمت کی وجہ سے جلدی نہ کرو ممکن ہے ان کی جو چیز آج تمہیں اچھی لگ رہی ہے کل وہی تمہیں بری لگنے لگے
بارہا کا تجربہ ہے کہ
ایک شخص بہت اچھا سمجھتا ہے پھر وہی کسی کی باتوں میں آ کر دور ہو جاتا ہے
••• لہذا کسی کی تعریف کرنے یا برائی کرنے پر جلدی فیصلہ نہ کیا کریں~ •••
اللہ رب العزت نے آپ کو کان اور آنکھیں کس لیئے دیئے ہیں ؟
خود دیکھ سن کر فیصلہ کرنے کے لیئے تو جب مجھے خود دیکھ سن نہ لیں عقل و شریعت دونوں کا تقاضا ہے کوئی رائے قائم نہ کریں
” جو دیکھ سن پڑھ رہے ہیں اور ان کے دیکھنے سننے پڑھنے میں بندہ درست ہے تو کسی غیبت , چغلی سے دل میں بغض و کینہ پال لیں تو آنکھیں نوچ کر پھینک دیں کانوں میں کیلیں ٹھونک لیں کیونکہ یہ جس لیئے آپ کو دی گئی ہیں وہ استعمال تو آپ کر نہیں رہے ہیں “
کسی سے سن کر مسلمان کے بارے اچھا گمان رکھنا عبادت ہے جبکہ کسی سے سن کر مسلمان کے بارے برا گمان رکھنا حرام ہے
شریعتِ مطہرہ کتنا صاف حکم دیتی ہے اور یہاں لوگوں نے غیبت و چغلی و بہتان کو مقدم کیا اور شریعت کے اصول کو پیچھے چھوڑ دیا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top