آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 32
امام رازی تفسیر کبیر میں زیر آیت قل لا اسئلکم فرماتے ہیں
أن الدعاء للآل منصب عظيم
آلِ رسول کے دعاء کرنا منصبِ عظیم ہے
ولذلك جعل هذا الدعاء خاتمة التشهد في الصلاة وهو قوله اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وارحم محمدا وآل محمد
اسی وجہ سے اس دعاء کو تشہد کے آخر میں رکھا ہے اور وہ دعاء یہ قول ہے اللھم صل علی محمد و آل محمد وارحم محمدا و آل محمد
وهذا التعظيم لم يوجد في حق غير الآل فكل ذلك يدل على أن حب آل محمد واجب
اور یہ تعظیم آلِ رسول کے سوا کسی اور کے حق میں نہیں ہے تو یہ سب باتیں دلالت کرتی ہیں کہ آلِ محمد کی تعظیم واجب ہے
صلی اللہ علیہ وسلم
یاد رکھیں تاویل کرنے والے °°° فاسد ذہن °°°اھلِ بیت پاک , آلِ رسولِ پاک کے مناقب و فضائل میں عموم ثابت کر کے فضیلت کو غیرِ مؤثر بنانا چاہتے ہیں مگر اھلِ سنت کبھی ایسا نہ تقابل کرتے ہیں نہ فضائل و مناقب کو عامیانہ انداز میں پیش کرتے ہیں
فضائل و مناقب اھلِ بیت کو بیان کرتے وقت جزئی فضیلت کہ کر عامیانہ و سطحی انداز اہلِ بیت سے کمزور تعلق پر دلالت کرتا ہے کہ جب شارع صلی اللہ علیہ وسلم نے جزئی کلی کا ذکر نہیں فرمایا تو کسی کو حق نہیں کہ اپنے زعمِ فاسد میں شکوک کو عوامِ اھلِ سنت کے ذہنوں میں انڈیلے کیونکہ ہمارے اسلاف نے کبھی بھی صحابہ و اھلِ بیت میں تقابل نہیں کیا
الغرض یہاں آل سے مراد اولاً حقیقی و لغوی معنی مراد ہوگا پھر قرینہ کی بناء پر غیر کی شمولیت ہوگی
کیونکہ آل یا تو اھل سے ماخوذ ہے جیساکہ اس کی تصغیر اُھیل آتی ہے یا پھر آلَ إليه أوْلاً ومَآلاً رَجَعَ سے ہے
{القاموس}
امام رازی نے فرمایا
هم الذين يؤول أمرهم إليه فكل من كان أمرهم إليه أشد وأكمل كانوا هم الآل
آل وہ لوگ جن کے معاملات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹتے ہیں تو ہر وہ جن کا معاملہ حضور طرف شدت اور کامل طریقے سے لوٹے وہ آل میں شمار ہوگا
مذکورہ دونوں لغوی معنی کے حساب سے عترت و اولادِ رسول پہلے مراد ہوتی ہے پھر بعد میں امت کے صلحاء کی شمولیت ہوگی
احناف کے نزدیک بھی درود شریف میں آل سے مراد بنو ہاشم اور اولادِ رسول مراد ہیں
الغرض فضلیت و شرف , عز و کرامت , منصب و عظمت کے لحاظ سے ساداتِ کرام کو بلا چوں چراں تسلیم کیا جائے
یہ فضاء بڑی خطرناک ہے کہ اھلِ بیت کی ہر فضیلت کے مقابل دیگر صلحاء کو لا کھڑا کیا جائے
جبکہ امت کو تو حکم تھا
إنِّي تارِكٌ فيكم خَلِيفَتَيْن كتابُ اللهِ وعِتْرَتِي أهلُ بيتي
میں تمہارے پاس دو چیزیں پیچھے چھوڑے جا رہا ہوں ایک قرآن کریم اور دوسری میرے اھلِ بیت میری عترت
{مسند احمد}
تو اس فرمانِ ذیشان کا تقاضا اس پاک عترت کے مقابل ہر ایک کو لا کھڑا کرنا تھا ؟
بے جا ابحاث سے امت کو اس وصیتِ رسول سے متنفر کرنا تھا ؟
کبھی بحث کہ آلِ رسول افضل ہے کہ عالم افضل ہے ؟
کبھی سیدہ کی شادی غیر سید سے جائز ہے کہ نہیں ؟
کبھی متقی افضل ہے کہ سید افضل ہے ؟
کبھی بد عمل , بد عقیدہ سید کسی تعظیم کے لائق ہے یا نہیں ؟
یہ بے ابحاث کیا بتاتی ہیں ؟ یہی کہ اس وقت مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے لہو پاک کو تختہَ مشق بنایا ہوا ہے
یہی کہ ہر بحث کا موضوع سید زادے یا سید زادیاں ہیں
امت کس طرف چل پڑی ہے ؟
ہم اور ہمارے بڑے کب ایسے تقابل کرنے والے تھے ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
