آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 32
الاربعون الکتانیہ میں شیخ الاسلام محمد بن جعفر الکتانی فرماتے ہیں
وقد نصوا على أن محبتهم سبب في بقاء الديار وزيادة خيراتها، وبغضهم سبب في ذهابها وقلة بركاتها. ولذا يقال ما عاداهم بيت إلا خرب، ولا نبح عليهم كلب إلا جرب
علماء کرام نے واضح فرمایا ہے کہ
آلِ رسول کی محبت کے سبب گھر باقی رہتا اور گھر میں برکات رہتی ہیں اوران سے بغض گھر کی تباہی اور برکتوں کے ختم ہونے کا سبب ہے
اسی وجہ سے کہا جاتا ہے
جس نے آلِ رسول سے بغض رکھا اس کا گھر برباد ہو جاتا ہے اور جو کتا ان پر بھونکتا ہے وہ خارشی ہو جاتا ہے
آگے فرمایا
ومن المجربات الصحيحة، والقواعد المقررة المليحة: أن مقابلتهم بالمودة والإكرام، يوجب لصاحبه القبول والنصر على الدوام، ومقابلتهم بضد ذلك، يوجب له الخزي والهوان والذل هنالك
صحیح تجربات اور ہے شدہ قواعد سے ثابت ہے کہ
جو آلِ رسول سے محبت و عزت سے پیش آتا ہے تو اس بندے کی مقبولیت بڑھ جاتی ہے اور مدد کی جاتی ہے
اور جو آلِ رسول سے محبت و عزت سے پیش نہیں آتا وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے
مزید فرمایا
عرف بالاستقراء عاجلة من تعاطى إذايتهم بالعقوبة في الدنيا
تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ جو آلِ رسول کو اذیت دیتا ہے وہ دنیا میں اس کی سزا جلد پا لیتا ہے
ابن سماک نے نقل فرمایا کہ
امام مالک اور ان جیسے علماء کرام اپنے زمانے کے ساداتِ کرام سے عہد لیتے تھے کہ یہ سادات کرام قیامت کے دن ان کی شفاعت کریں گے
{ الاربعون الکتانیہ ص 41}
ساداتِ کرام کی عزت حرمتِ رسول کی وجہ سے ہے جو ان کا لحاظ نہیں کرتا وہ گستاخِ رسول ہے
آلِ رسول کی عزت و عظمت , شرافت و کرامت نسبتِ رسول کی وجہ سے ہے
اسی وجہ سے سید فاسق ہو تب بھی اس کی تعظیم واجب ہے جبکہ عالم فاسق ہو تو اس کی تعظیم حرام ہے
کیونکہ نسب کی قوت و کرامت و عزت بڑھ کر ہے
یہی وجہ ہے مجتھد کہ علم کا سب سے بلند رتبہ ہے خلافت کا اھل نہیں قریشی کہ صاحبِ عقل و رائے ہو تو خلافت کا اھل ہے
بہر حال آلِ رسول کے حقوق کی حفاظت کرنا اولیاء کرام و علماء عظام کی خاص عادت ہے
یاد رکھیں آلِ رسول شعائر الله ہیں
جب حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے وفات پاگیا تو کفار نے طعنے دیئے کہ اب محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کی نسل منقطع ہو جائے گی تو رب العالمین نے اپنے حبیب کو تسلی دی اور سورہ کوثر عطاء فرمائی کہ کہنے والوں کی نسلیں ختم ہو جائیں گی مگر پیارے تجھے میں خیر کثیر دوں گا اور وہ عترتِ رسول ہے
اللہ رب العزت نے فرمایا
مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ
جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ دِلوں کا تقوی ہے
یہی حکمت ہے کہ شعائر الله کا مستقل ذکر نماز میں شامل کر دیا ہے
آپ آل سے مراد دیگر اصناف بھی شامل رکھیں مگر جو لغوی و حقیقی معنی ہے پہلے وہ رکھنا پڑے گا
بعد میں قرائن کی وجہ سے دیگر افراد متقی و اولیاء شامل ہوں گے
تو جب یہ نفوس ایسی عزت و عظمت والے ہیں تو ان کو عام وہی سمجھے گا جس کا دل بے ایمان ہے
جن کے دِلوں میں ایمان رچ بس گیا ہے وہ چونکہ , اگر مگر اور تاویلات کے بغیر ساداتِ کرام سے محبت کرتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
