اسلامی_طرزِتربیت 127
یہ تصویر 1912 کی ہے
ایک عربی اپنی نئی نویلی دلہن کو شادی کے دوسرے دن اس کے ماں باپ سے ملانے لے جا رہا ہے
ہمارے ہاں اس رسم کو چوتھی کی رسم کہتے ہیں
ایک سو دس سال میں کتنی تبدیلی آگئی ہے
ذرا غور کریں
دولہن کے پاؤں میں جوتے بھی نہیں ہیں
اور دولہا بھی ننگے پیر ہے
جبکہ آج کل جوتا چھپائی کے نام پر کیا کچھ نہیں ہوتا
زمین و سمندر و پہاڑوں اور جنگلوں نے اپنی برکات اگل دی ہیں
جن کے اجداد کو جوتے پہننے نصیب نہیں ہوتے تھے وہ لوگ سونے کے جوتے پہنتے ہیں
عورت پھر ناشکری ہے
مرد پھر دیوث ہے
°°° زمین نے اپنی برکات ظاہر کر دی مگر مرد بے کار آنے لگے ہیں ہمت و شجاعت, مروت و رواداری, غیرتِ دینی و حمیتِ اسلامی ختم ہوتی جا رہی ہے °°°
روکھی سوکھی کھا کے مرد سے وفاء کرنے والی بیویاں ختم ہونے لگی ہیں
دوسری طرف بیوی سے وفاء کرنے والے مرد ناپید ہونے لگے ہیں
جوان ہونے کے باجود باپ سے تھپڑ کھا کے سر جھکا لینے والے بیٹے نہیں رہے
تو شادی کا سن کر حیاء کرنے والی بیٹیاں ختم ہوگئی ہیں
علم و ادب میں مقابلہ کرنے کی بجائے مال و دولت جمع کرنے کی دوڑ لگ گئی ہے
بلکہ چار پیسے اور چند ویوز کی خاطر جسم ننگے ہونے لگے ہیں
آج بھی جس گھر میں غیرت , حیاء, خود داری , مروت, ہے وہاں زمانے کی برائیاں بہت کم گھس سکی ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

